Share this link via
Personality Websites!
479000
9499
یعنی جب قیامت کا دِن ہو گا *یہ صحابۂ کرام علیہم الرّضوان جنّت میں پہنچ جائیں گے *جنّتی اُونچے اُونچے تختوں پر تشریف رکھیں گے *جنّتی لباس پہنے ہوں گے *جنّتی نعمتوں سے لُطف اَندوز ہو رہے ہوں گے۔ اُدھر اُن ، غیر مسلموں کو جہنّم میں ڈال دیا جائے گا، جب یہ جہنّم کی آگ میں جل رہے ہوں گے، اچانک جہنّم کا دروازہ کھولا جائے گا، یہ اُمِّید لگائیں گے، باہَر کی طرف دوڑیں گے مگر جیسے ہی دروازے کے قریب پہنچیں گے، تبھی دروازہ بند کر دیا جائے گا، یہ پِھر عذاب میں گرفتار ہو جائیں گے۔ پِھر دروازہ کھولا جائے گا، پِھر باہَر کو لپکیں گے مگر دروازہ بند ہو جائے گا، ایسا ہی ہوتا رہے گا اور اَہْلِ جنّت انہیں دیکھ دیکھ کر ہنس رہے ہوں گے کہ دیکھو! تم ہمارا مذاق اُڑاتے تھے، آج تمہارا مذاق بن رہا ہے۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! یہ ہے قیامت...!! اُونچوں کو نیچا کرنے والی...!! اس سے ہمیں مَعْلُوْم ہوا؛ آج دُنیا میں کسی کا مذاق نہیں اُڑانا چاہیے، کسی کو طعنے نہیں دینے چاہئیں، کسی پر جملے کَس کر اس کا دِل نہیں دُکھانا چاہیے، آہ! روزِ قیامت ہمارا مذاق بنا دیا گیا تو سوچئے! ہمارا کیا بنے گا۔
اللہ پاک نے پارہ: 26، سورۂ حُجُرَات کی آیت نمبر 11 میں اِرْشاد فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ-
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں پر نہ ہنسیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami