Share this link via
Personality Websites!
478999
9499
کسی کو انکار کی گنجائش نہ ہوگی، کسی کو نیچا کرنے والی، کسی کو بلندی دینے والی۔
اِن آیات کا تیسرا اور مَشْہور تَرِین معنیٰ یہ ہے کہ یہاں وَاقِعہ سے مراد قیامت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ قیامت کا ہولناک وَاقِعہ جب واقع ہو جائے گا، قیامت قائِم ہو جائے گی، اسے کوئی بھی روک نہیں پائے گا، آج جو غیر مسلم، دِین بیزار، مُلْحِدْ وغیرہ اِس کا اِنْکار کرتے تھے، تب کھلی آنکھوں سے قیامت کو دیکھ لیں گے، اس کا اِنْکار نہیں کر پائیں گے، ہاں! ہاں! یہ قیامت ہے جو اُونچوں کو نیچا اور نیچوں کو اُونچا کر دے گی۔ ([1])
مذاق اُڑانے والوں کا مذاق بنے گا
پارہ: 30 سُورۂ مُطَفِّفِیْن میں ایک وَاقِعہ ذِکْر کیا گیا ہے، میں اسے تفاسیر کی روشنی میں قدرے تفصیل سے عرض کرتا ہوں؛ اَبُوجَہْل، عُتْبہ، شَیْبہ، وَلید بن مُغِیرہ وغیرہ جو مکّے کے کفّار تھے، یہ جب حضرت بلالِ حبشی، حضرت صہیب رُومی وغیرہ صحابۂ کرام علیہم الرّضوان کو دیکھتے، ان کے سادہ لباس، سادہ غذا، سادہ طرزِ زندگی کو دیکھ کر مذاق اُڑایا کرتے تھے۔ ان کی طرف دیکھ دیکھ کر ہنستے، آنکھوں سے اِشارے کرتے اور ان پر جملے کسا کرتے تھے۔([2])
اللہ پاک نے فرمایا:
فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ یَضْحَكُوْنَۙ(۳۴) عَلَى الْاَرَآىٕكِۙ-یَنْظُرُوْنَؕ(۳۵) (پارہ:30، سُورۂ مُطَفِّفِیْن:34 و35)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: تو آج ایمان والے کافِروں پر ہنسیں گے، تختوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami