Share this link via
Personality Websites!
478285
9469
کا مسکرانے کا انداز مبارَک مَعْلُوم ہوا کہ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ملاقات کے وقت سلام فرماتے، ہاتھ مِلاتے اور ملتے وقت مسکرایا کرتے تھے۔ دوسرا؛ ایک اور بات کی طرف تَوَجُّہ دِلاؤں ! حضرت بَرَاء بن عَازِب رَضِیَ اللہ عنہ کے انداز مبارَک پر غور کیجیے! ایک شخص سے ملاقات ہو رہی ہے *اجتماع نہیں ہے*جمعہ کا خطبہ نہیں ہے*سیکھنے سکھانے کا حلقہ نہیں لگا ہوا*دَرْسِ قرآن *دَرْسِ حدیث*دَرْسِ سُنّت نہیں چل رہا، بَس ملاقات ہوئی ہے، بَس ملاقات کرتے کرتے، سلام لیتے لیتے آپ نے سامنے والے کو سُنّت بھی سکھا دی، حدیث شریف بھی سُنا دی۔
کیا بات ہے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم کی...!! پتا چلا؛ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم نیکی کی دعوت دینے کا جذبہ رکھنے والے تھے، ان کے اندر نیکی کی دعوت دینے کا جذبہ رَچ بَس چکا تھا، بس جہاں ہوتے، اپنی خوشبوئیں لُٹاتے ہی رہا کرتے تھے۔
عملاً بھی سنّتیں سکھایا کیجیے!
پیارے اسلامی بھائیو! کاش! ہم بھی یہ انداز اپنا لیں؛ کسی سے ملے، ملتے ملتے ایک سُنّت بتا کر گزر گئے *دوستوں کے ساتھ چائے پینے بیٹھے، باقی باتیں ہوتی رہتی ہیں، لگے ہاتھ 2سنّتیں بھی سکھا دِیں *پُرانے دوست سے ملاقات ہو گئی، ملے، مہمان نوازی کی، ساتھ 2 سنّتیں بھی سکھا دِیں *بَس میں سَفَر کر رہے تھے، چُپ کر کے کیوں بیٹھنا؟ پاس بیٹھے مسافِر کو دو چار سنّتیں سکھا دیں *رِکشے میں بیٹھے، اور کوئی نہیں تو رِکشہ ڈرائیور ہی کو سنّتیں سکھا دیں۔ بَس ہم یہ اپنی عادَت بنا لیں؛ ہم سے کوئی مِلے تَو سنّتوں کی خُوشبو لے کر ہی جائے۔ خالی نہ جانے پائے۔ اللہ پاک نے فرمایا:
وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ (پارہ:27، سورۂ حَدِیْد:28)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اور وہ تمہارے لیے ایک
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami