Share this link via
Personality Websites!
478284
9469
رسول حضرت بَرَاء بن عَازِب رَضِیَ اللہ عنہ سے ملاقات کا شَرْف نصیب ہوا، آپ نے مجھے سلام کیا، پِھر ہاتھ مِلایا اور مسکرا دئیے! پِھر فرمایا: جانتے ہو میں نے ایسے کیوں کیا؟ میں نے عرض کیا: نہیں جانتا مگر...!!
(اب بزرگوں کا صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم کے مُتَعَلِّق ادب دیکھیے! عرض کیا: آپ نے ایسا کیوں کیا میں نہیں جانتا مگر آپ چونکہ صحابی ہیں، لہٰذا) جو کیا ہے، اس میں بھلائی ہی ہو گی۔
سُبْحٰنَ اللہ!
ہر صحابیِ نبی! جنّتی! جنّتی! سب صحابیات بھی! جنّتی! جنّتی!
چار یارانِ نبی! جنّتی! جنّتی!([1])
خیر! اب سنیے! حضرت بَرَاء بن عَازِب رَضِیَ اللہ عنہ نے ایسا کیوں کیا تھا۔ فرمایا: مجھے پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے ساتھ ملاقات کا شَرْف مِلا، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے ایسے ہی مجھے سلام کیا، پِھر میرا ہاتھ پکڑا اور مسکرائے۔ پِھر فرمایا: اے بَرَاء! جانتے ہو میں نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے عرض کیا: نہیں جانتا۔ فرمایا: اے بَرَاء !
مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيُسَلِّمُ اَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهٖ وَيَأْخُذُ بِيَدِهِ، لَا يَأْخُذُهٗ اِلَّا لِلَّهِ، فَيَتَفَرَّقَانِ حَتَّى يُغْفَرَ لَهُمَا
ترجمہ:2مسلمان جب آپس میں ملیں، ایک دوسرے کو سلام کہیں اور ہاتھ پکڑیں تو ان کے جُدا ہونے سے پہلے اللہ پاک ان دونوں کی بخشش فرما دیتا ہے۔ ([2])
پیارے اسلامی بھائیو! ایک تَو اس روایت سے پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami