Share this link via
Personality Websites!
478283
9469
اللہ عنہما بہترین لباس پہنے، خوبصُورت گورا گورا چہرہ چمکاتے بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے تو آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے مسکراتے ہوئے ان کا استقبال فرمایا۔
سُبْحٰنَ اللہ!کیا ادا ہے...! وہ مبارَک تَبَسُّم، وہ پیاری پیاری مسکراہٹ...!! واہ...!!
سر سے پا تک ہر ادا ہے لا جواب خُوبْرُوْیَوں میں نہیں تیرا جواب
حُسن ہے بےمثل، صُورت لا جواب میں فِدا تم آپ ہو اپنا جواب([1])
یہ ہمارے آقا ومولیٰ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا مستقل انداز مبارَک تھا؛ آنے والوں کا مسکراہٹ سے استقبال فرمایا کرتے تھے۔
حضرت جَرِیْر رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں :
مُنْذُ اَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي اِلَّا تَبَسَّمَ
ترجمہ: میں جب سے مسلمان ہوا ہوں، محبوبِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے جب بھی میری جانِب دیکھا، مسکرا کر ہی دیکھا ہے۔([2])
جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑیں اس تَبَسُّم کی عادت پہ لاکھوں سلام([3])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
تابعی بزرگ حضرت ابو داود رَحمۃُ اللہ عَلَیْہسے روایت ہے، فرماتے ہیں: مجھے صحابئ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami