Share this link via
Personality Websites!
478282
9469
*فحش گوئی نوجوانوں میں عام ہو رہی ہے *گندا بولتے ہیں *گالیاں عام رِواج پا رہی ہیں *گالی فیشن (Fashion) بنتی چلی جا رہی ہے *بعض نادان جب تک گالی نہ دے لیں، انہیں سکون نہیں آتا *یونہی اَبے، تَبے کرنا *جملے کسنا *دوسروں کی کلاس لگانا *غصے میں بُڑبُڑانا، اَوْل فَوْل بکنا *سخت لہجے *کُھردَرے انداز *رُوکھا پَن *طنز بازیاں یہ سب بہت عام ہو رہا ہے۔
اے عاشقانِ رسول! زبان اَصْل حُسْن ہے، اس پر تَوَجُّہ دینی چاہیے۔ شکل تَو جیسی ہے، سَو وَیسی ہے اور بہت خوبصُورت ہے، اللہ پاک نے ہر انسان کو خوبصُورت بنایا ہے، ارشاد ہوتا ہے:
لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ٘(۴) (پارہ:30، سورۂ اَلتِّیْن:4)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:بیشک یقیناًہم نے آدمی کو سب سے اچھی صورت میں پیدا کیا۔
لہٰذا ظاہِری شکل میں ہر ایک خوبصُورت ہی ہے۔ اپنی زبان میں حُسْن لانے کی کوشش کیجیے! *میٹھا بولیے! *اچھا بولیے!*تہذیب کے دائرے میں رہیے!*ناپ تَول کر جملے زبان سے ادا کیا کیجیے! اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! دُنیا میں بھی عزّت بڑھے گی، آخرت میں بھی اُونچا مقام نصیب ہو گا۔
فالتو باتوں کی عادت دُور ہو جائے حُضُور! ہو زباں پر میری اکثر آپ ہی کا ذکرِ خیر([1])
پیارے اسلامی بھائیو! ہم نے حدیث شریف سُنی، حضرت عبّاس بن عبد المطلب رَضِیَ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami