Share this link via
Personality Websites!
478281
9469
حضرت لُقْمان حکیم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی زِندگی مبارک کا کچھ عرصہ غُلامی میں گزرا، ایک مرتبہ آپ کے دُنیوی آقا نے آپ سے کہا: بکری ذَبْح کر کے اس کے 2 سب سے بہترین حَصَّے لے آیئے۔آپ نے بکری ذَبح کی اور اس کی زَبان اور دِل نِکال کر لے گئے۔کچھ دنوں کے بعد آقا نے دوبارہ کہا:بکری ذَبْح کر کے اس کے 2 سب سے بدترین حصَّے لے آیئے، حضرت لُقْمان حکیم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے پھر بکری ذبح کی اور پھر اس کی زَبان اور دِل لا کر حاضِر کر دیئے، آقا نے اس کی وجہ پوچھی (کہ پہلے بہترین حِصّے لانے کا کہا، تب بھی آپ زبان اور دِل ہی لائے، اب بدترین حِصّے لانے کو کہا، اب بھی آپ زبان اور دِل ہی لائے، اس کی کیا وجہ ہے؟) اس پر حضرت لُقْمان رَحمۃُ اللہ عَلَیْہنے فرمایا:اگر زَبان و دل صحیح ہوں تویہ سب سے بہتر ہیں اور اگر یہ بگڑ جائیں تو ان سے بڑھ کر بُری چیز کوئی نہیں۔([1])
دِل ہی ڈبوئے، دِل ہی ترائے دِل سا دوست نہ دِل سا دُشمن
پتا چلا؛ حُسْن دِل کا ہے اور زبان کا ہے۔ لہٰذا شکل صُورت اللہ پاک نے جیسی عطا فرمائی ہے، وہ بہترین ہے، *آج کل ہمارے ہاں نوجوانوں کو کنگھے شیشے سے فرصَت نہیں ملتی *جینٹس بیوٹی پارلر (Gents’ Beauty parlour) بن چکے ہیں *ہزاروں روپیہ لگا کر مرد حضرات طرح طرح کے میک اَپ کرواتے ہیں *ہئیر سٹائل پر ہزاروں روپیہ لگتا ہے *باڈی بنانے کے لیے جِمْ جوائن (Join) کی جاتی ہے اور نہ جانے کیا کیا کرتے ہیں نوجوان حضرات...!! مگر افسوس! زبان جو آدمی کا اَصْل حُسْن ہے، اس پر تَوَجُّہ نہیں دِی جاتی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami