Share this link via
Personality Websites!
478280
9469
پیسے کی وجہ سے، عہدے اور منصب کی وجہ سے قریب آئیں بھی تو دِل ہی دِل میں بُرا کہتے یا سمجھتے رہتے ہیں۔
حضرت لُقْمان حکیم اور میٹھی زبان
حضرت لُقْمان حکیم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہکا نام تَو آپ نے سُنا ہی ہو گا، پچھلی اُمّتوں میں سے تھے، حبشہ کے رہنے والے تھے،رنگ بظاہِر کالا تھا، ہونٹ موٹے موٹے تھے۔ مگر اللہ پاک نے زبان میٹھی عطا فرمائی تھی۔ ایسی مبارَک زبان کہ اس سے حکمت کے مَوتی جَھڑا کرتے تھے۔ ([1])اللہ پاک قرآنِ کریم میں ان کے نام کی ایک پُوری سُورت نازِل فرمائی؛ سُورۂ لُقْمان 21 وِیں پارے میں ہے، ارشاد ہوتا ہے:
وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ (پارہ:21، سورۂ لُقْمان:12)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور بیشک ہم نے لُقْمان کو حکمت عطا فرمائی۔
دیکھیے! بظاہِر رنگ مبارَک گورا نہیں تھا مگر زبان میٹھی تھی۔ لوگ آپ کی حکمت بھری باتیں سُننے کے لیے آپ کے پاس جمع ہوا کرتے تھے۔
پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: سوڈان (یعنی حبشہ) والوں میں سے 3شخص بہترین ہیں: (1): حضرت لُقْمان حکیم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ(2): حضرت بلال حبشی رَضِیَ اللہ عنہ (3):اور رسول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّمکے خادم مِہْجَع رَضِیَ اللہ عنہ ۔ ([2])
سُبْحٰنَ اللہ! کیسی شان ہے...!! اللہ پاک نے حکمت اور میٹھی زبان عطا فرمائی تو دیکھیے! کیسا رُتبہ نصیب ہوا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami