Share this link via
Personality Websites!
478295
9469
بہت پریشان تھے، روز گھر میں لڑائی ہوتی، بچوں کی اَمِّی کے ساتھ بھی ٹھیک سے بنتی نہیں تھی۔ بڑے پریشان تھے۔ ایک مرتبہ کسی بزرگ سے ملے۔ اپنے گھریلو حالات بتائے۔ ان بزرگ نے فرمایا: بیٹا! آج جب گھر پہنچو تو دروازہ کھلتے ہی مسکرانا، مسکرا کر بات کرنا۔
اُن صاحِب نے اس نسخے پر عَمَل کیا۔ گھر پہنچے، دروازہ کھٹکھٹایا، بچوں کی اَمِّی نے دروازہ کھولا، یہ اسے دیکھتے ہی مسکرا پڑے۔ بچوں کی اَمِّی نے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی تو وہ بھی کِھل گئی۔ اور دونوں کے لڑائی جھگڑے ختم ہو گئے۔
پیارے اسلامی بھائیو! سُنّت ہی میں عظمت ہے۔ مسکرانا سُنّت ہے، اس میں عظمت ہی عظمت ہے۔ مختلف طِبّی، نفسیاتی (psychological) اور معاشرتی تحقیقات کے مُطَابِق مسکرانے کی برکت سے * مُثبَت جذبات میں اِضافَہ ہوتا ہے *ذہنی دباؤ میں کمی آتی ہے *منفی جذبات کم ہوتے ہیں *کولیسٹرول لیول (Cholesterol level) پر مُثبَت اثرات پڑتے ہیں *خُون کی نالیوں کے پھیلنے میں مدد ملتی ہے *دَرْد برداشت کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے *نیند بہتر ہوتی ہے *بلڈ پریشر پر ممکنہ اچھے اثرات پڑتے ہیں *پھیپھڑوں کی کارکردگی میں بہتری آتی ہے *اور ذہنی و جسمانی دباؤ کم ہوتا ہے *معاشرتی تعلقات مَضْبُوط ہوتے ہیں *اعتماد قائِم کرنے میں مدد ملتی ہے* باہمی تعاوُن کے امکانات بڑھتے ہیں*ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے *باہمی کشش اور خوشگواری بڑھتی ہے*خاندانی محبّت میں اضافہ ہوتا ہے *ماحول مُثبَت رہتا ہے *تعلقات مُثبَت ہوتے ہیں یعنی بدگمانیوں کا رجحان کم ہوتا ہے *بہترین تربیت کا ماحول بنتا ہے *صلہ رحمی میں مدد ملتی ہے *اِزْدِواجی رشتہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami