Share this link via
Personality Websites!
478294
9469
سنجیدگی رُعب بناتی ہے۔ اَوَّل تو دیکھیے! ہمارا دُوسروں پر رُعْب ہونا بھی نہیں چاہیے، محبّت ہونی چاہیے، پیار ہونا چاہیے، لگاؤ ہونا چاہیے، احترام ہونا چاہیے۔ دوسرا یہ کہ سنجیدگی کا مسکرانے یا نہ مسکرانے کے ساتھ کوئی تَعَلُّق نہیں ہے۔ پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مسکرایا کرتے تھے، اس سے بڑھ کر اس عمل کے اچھا ہونے کی اَور سند ہمیں کیا چاہیے...؟ اُن کے خُلق کو اللہ پاک نے عظیم کہا ہے:
وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴) (پارہ:29، سورۂ قَلَم:4)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور بیشک تم یقینا عظیم اخلاق پر ہو۔
سُبْحٰنَ اللہ! وہ خُلْقِ عظیم والے نبی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مسکرایا کرتے تھے تو ہمیں بھی مسکرانا چاہیے اور گھر میں بھی مسکرانا چاہیے۔ مسلمانوں کی پیاری اَمِّی جان حضرت عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہ عنہا سے پُوچھا گیا، پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا گھر میں رہنے کا انداز مبارَک کیا تھا؟ فرمایا:
کَانَ اَکْرَمُ النَّاسِ خُلُقًا کَانَ ضَاحِکًا بَسَّامًا
ترجمہ:پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم (گھر میں) نہایت کریم اَخْلاق والے، بہت مسکرانے والے تھے۔ ([1])
سُبْحٰنَ اللہ! پتا چلا؛ گھر میں بھی مسکرانا چاہیے۔ اس سے لڑائیاں ختم ہوتی ہیں، گھروں کی بےچینی دُور ہوتی ہے۔ وَاقِعہ بیان کیا جاتا ہے: ایک صاحِب تھے، گھریلو ناچاقیوں سے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami