Share this link via
Personality Websites!
478293
9469
*چاہے ہم چھوٹے بچے سے مل رہے ہیں، اس سے مسکرا کر ملیے! *گھر پہنچے ہیں، گھر والوں کو مسکرا کر ملیے! *ماں باپ کو مسکرا کر ملیے! ان کو تو پیار بھری نظر سے دیکھنے میں مَقْبُول حج کا ثواب ہے۔ ظاہِر ہے اب پیار بھری نظر غصے سے بھرپور چہرے کے ساتھ تو نہیں ہو سکتی، جب پیار آئے گا تو چہرے پر مسکراہٹ بھی آ ہی جائے گی *بچوں کی اَمِّی سے مسکرا کر ملیے! *دوستوں سے مسکرا کر ملیے! *مسلمان بھائیوں سے مسکرا کر ملیے! *غرض؛ جہاں بھی ہیں، چہرے پر مسکراہٹ رکھیے!
*ہاں! قبرستان میں ہیں، وہاں مسکرانا درست نہیں ہے *جنازے پر نہیں مسکرانا ہوتا * تَعْزِیَت کے وقت چہرے پر غم کے آثار رہنے چاہئیں*عیادت کے وقت موقع کی مناسبت سے چہرے کے تاثرات ہوں *کوئی غم کی خبر سُنائے، اس وقت چہرے پر غم کی کیفیت لانی چاہیے*کوئی سنجیدہ بات ہو رہی ہے، اس وقت سنجیدہ رہنا چاہیے، مسکرانا نہیں چاہیے۔ غرض؛ یہ تہذیب اور مروَّت کے جو دائرے ہیں، وہ ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے۔ جہاں مسکرانا بنتا نہیں ہے، وہاں مت مسکرائیے! اس کے عِلاوہ مواقع پر تَو ہمیں مسکرانا ہی چاہیے۔
پیارے اسلامی بھائیو! بعض لوگ باہَر دوستوں کے ساتھ تو بہت ہنس ہنس کر، قَہْقَہَے لگاتے ہوئے باتیں کرتے ہیں مگر گھر پہنچتے ہی گویا انہیں سانپ سُونگھ جاتا ہے یعنی بالکل سنجیدہ ہو جاتے ہیں، چہرے پر مسکراہٹ رہتی ہی نہیں ہے۔ بعض لوگوں کو لگتا ہے کہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami