Share this link via
Personality Websites!
478292
9469
پیارے اسلامی بھائیو! آج کل ہمارے ہاں لوگ مسکرانے کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے، بہت لوگ مَن کے موجِی ہوتے ہیں، کسی بات پر مسکراہٹ آ گئی تو آ گئی، ورنہ سنجیدہ رہتے ہیں۔ دیکھیے! بعض دفعہ قصدًا مسکرانا پڑتا ہے۔ مُعَاشرہ ہے نا؛ ہم معاشرے میں رہتے ہیں، آپس میں ملتے جلتے ہیں، اُٹھتے بیٹھتے ہیں تو ہمیں مسکرانے کی عادَت بنانی چاہیے۔ ویسے اگر چُٹکلا کسی نے نہیں سُنایا، کوئی ہنسنے کی بات نہیں ہوئی تَو کیا ہوا...؟ مسلمان بھائی کی زیارت ہوئی ہے *یہ مسکرانے کی بات ہے *گھر واپس پہنچ جانا نصیب ہوا، یہ مسکرانے کی بات ہے *بچوں کو دیکھنا نصیب ہوا، یہ مسکرانے کی بات ہے *اَہْلِ خانہ کو بخیریت دیکھنا نصیب ہوا، یہ مسکرانے کی بات ہے۔ تَو مسکرائیں، یہ سُنّت ہے، ہمیں اپنے آپ پر جَبر کر کے اس کی عادَت بنانی پڑے گی۔ لہٰذا مسکرانے کو اہمیت دیجیے! رسولِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا
ترجمہ: کسی نیکی کو کم مت سمجھو...!!
وَلَو اَنْ تُكَلِّمَ اَخَاكَ وَوَجْهُكَ اِلَيْهِ مُنْبَسِطٌ
ترجمہ: اگرچہ تمہارا اپنے مسلمان بھائی سے مسکرا کر بات کرنا ہی ہو۔([1])
دیکھیے! ہمیں حکم دیا جا رہا ہے، یہ جو مسکرا کر ملنا ہے، مسکرا کر بات کرنا ہے، اس کو بھی ہم نے حقیر نہیں سمجھنا، اس کو اہمیت دینی ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami