Share this link via
Personality Websites!
478290
9469
اب آپ خُود غور فرمائیے! ایک کام شیطان کا پسندیدہ ہے، ایک کام اللہ پاک کو مَحْبُوب ہے۔ ہم کونسا کام اِخْتیار کریں گے...؟ ظاہِر ہے ہم مسلمان ہیں، ہم اللہ پاک کے بندے ہیں، ہم اپنے رَبِّ کریم ہی کی رضا چاہیں گے۔ لہٰذا ہمیں قَہقَہہ لگانے سے بچنا چاہیے۔ مسکرائیں!مسکرائیں اور خُوب مسکرائیں۔
پیارے نبی، اچھے نبی، سچّے نبی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
وَتَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ اَخِيْكَ صَدَقَةٌ
ترجمہ: تمہارا اپنے بھائی کے سامنے مسکرانا صدقہ ہے۔ ([1])
ایک مالی صدقہ ہوتا ہے۔ وہ ایک الگ نیکی ہے مگر اور بھی بہت ساری چیزوں کو صدقہ قرار دیا گیا ہے۔ انہیں میں سے مسکرا کر ملنا بھی ہے۔ جب ہم کسی مسلمان بھائی سے مسکرا کر ملتے ہیں تو اللہ پاک صدقے کا ثواب عطا فرماتا ہے۔
اللہ پاک کے مَحْبُوب نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: جب 2مسلمان آپس میں ملیں، دونوں ہاتھ ملائیں، ایک دوسرے کو سلام کہیں، ان میں سے جو زیادہ خَنْدَہ پیشانی (مثلاً مسکراتے ہوئے، کِھلے کِھلے چہرے) کے ساتھ ملے گا، وہ اللہ پاک کا زیادہ پیارا ہے۔
مزید فرمایا: ان پر اللہ پاک 100 رحمتیں نازِل فرماتا ہے، اس میں سے 90 رحمتیں اس کے لیے ہیں، جس نے سلام میں پہل کی اور 10 رحمتیں جواب دینے والے کے لیے ہیں۔ ([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami