Share this link via
Personality Websites!
478289
9469
اور تَبَسُّم بھی کیسا تھا...! روایت میں ہے: جب آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مسکراتے تو دندانِ اقدس سے نُور پُھوٹتا، جس سے سامنے کی دِیواریں جگمگا جاتی تھیں۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ!
سوزنِ گم شدہ ملتی ہے تَبَسُّم سے تِرے شام کو صبح بناتا ہے اُجالا تیرا([2])
وضاحت:یعنی آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی مسکراہٹ سے ایسا نُور پُھوٹتا ہے کہ رات کے اندھیرے میں گمی ہوئی سوئی بھی مل جائے اور آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے چہرۂ انور کی چمک شام کو بھی صبح میں بدل دیتی ہے۔
میں عرض کر رہا تھا کہ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم صِرْف تَبَسُّم فرمایا کرتے تھے، بس مسکراتے تھے، آواز نہیں آتی تھی اور ہمارے ہاں کیا حالت ہے...؟ اللہ اکبر! اکثر اوقات قَہقَہے لگائے جاتے ہیں۔
یاد رکھئے! قَہقَہہ لگانا گُنَاہ نہیں ہے۔ مگر پسندیدہ بھی نہیں ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے:
اَلْقَہْقَہَۃُ مِنَ الشَّیْطَانِ وَ التَّبَسُّمُ مِنَ اللہ
ترجمہ: قَہقَہہ شیطان کی جانِب سے اور تَبَسُّم اللہ پاک کی جانِب سے ہے۔([3])
یعنی؛ قَہقَہہ لگانا شیطان کا پسندیدہ عَمَل ہے اور تَبَسُّم اللہ پاک کو مَحْبُوب ہے۔ ([4])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami