Share this link via
Personality Websites!
478288
9469
اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کثرت سے مسکرایا کرتے تھے۔ افسوس! اب ہمارے ہاں مسکرانے میں بھی لوگ کنجوسی کرتے ہیں۔ اچھا...!! یہ کنجوسی بھی 2طرح سے ہوتی ہے: (1): ایک تَو یہ کہ ملتے وقت مسکراتے نہیں ہیں، بہت سارے ہیں کہ ان کا مُنہ پُھولا رہتا ہے، مسکراہٹ آتی ہی نہیں ہے مُنہ پہ، بعضوں کو تَو دیکھ کر لگتا ہے کہ بہت ہی غمگین ہیں (2):جب ہنستے ہیں تو پِھر کِھل کِھلا کر کے ہنستے ہیں، آواز کے ساتھ قہقہے لگاتے ہیں، اُونچی اُونچی ہنستے ہیں۔ دونوں ہی طریقے سُنّت کے مُطَابِق نہیں ہیں۔ اللہ پاک کے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم قہقہہ نہیں لگایا کرتے تھے۔
ہنسی، مسکراہٹ اور قہقہہ میں فرق
ہنسنے کے 3درجے ہوتے ہیں: (1):آپ کے صِرْف دانت ظاہِر ہوئے۔ اسے تَبَسُّم کہتے ہیں یعنی مسکرانا(2): دانت ظاہِر ہونے کے ساتھ اتنی آواز نکلی کہ آپ نے خُود سُن لی۔ اسے ضِحْک کہتے ہیں یعنی ہنسنا (3): اتنی آواز سے ہنسے کہ آواز دوسروں تک پہنچی، اسے قَہقَہہ کہتے ہیں۔ ([1])
رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے کبھی قَہقَہہ نہیں لگایا۔ کبھی کبھار بالخصوص جب آخرت کے تَعَلُّق سے کوئی بات ہوتی تَو ضِحْک فرمانا ثابت ہے،یعنی اتنی آواز میں ہنسنا کہ خُود اپنے کانوں تک آواز چلی جائے۔ ([2]) ایسا بھی ہوتا تو آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مُنہ مبارَک پر ہاتھ رکھ لیا کرتے تھے۔ ([3]) لیکن اکثر اوقات تَبَسُّم ہی فرمایا کرتے تھے۔ ([4])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami