Share this link via
Personality Websites!
478287
9469
پیارے اسلامی بھائیو! صحابئ رسول حضرت ابُودَرْدَا رَضِیَ اللہ عنہ کی عادَتِ کریمہ تھی، ہر بات مسکرا کر ہی کیا کرتے تھے۔ آپ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: میں نے حُسْنِ اَخْلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو دیکھا کہ آپ دورانِ گفتگو مسکراتے رہتے تھے۔ ([1])
جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑیں اس تَبَسُّم کی عادت پہ لاکھوں سلام([2])
وضاحت:پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّماپنی حیاتِ ظاہری میں کسی غمزدہ کی طرف مسکرا کر دیکھ لیتے تو اُس کی دل کی کلیاں کِھل اٹھتی تھیں، آج بھی جب کسی دُکھیارے کے خواب میں یا کسی غلام کی قبر میں مسکراتے ہوئے تشریف لے آئیں تو ان کے بے چین دلوں کو تسلی اور سکون مل جاتا ہے۔ ایسی چین دینے والی تبسم کی عادت پہ لاکھوں سلام ہوں۔
ایک روایت میں ہے: صحابئ رسول رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں:
مَا رَاَيْتُ اَحَدًا اَكْثَرَ تَبَسُّمًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ
ترجمہ: میں نے رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سے زیادہ تبسم فرمانے والا کسی کو نہیں دیکھا۔ ([3])
پیارے اسلامی بھائیو! مَعْلُوم ہوا؛ مسکرانا سُنّت ہے۔ محبوبِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صَلَّی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami