Share this link via
Personality Websites!
478286
9469
ایسا نُور کردے گا، جس کے ذریعے تم چلو گے۔
اس آیت میں نُور کا ایک معنیٰ نُورِ ہدایت بھی ہے۔([1]) یعنی اللہ پاک اپنے خاص بندوں کو ایسا نُور عطا فرما دیتا ہے کہ یہ جہاں چلے جاتے ہیں، وہاں ہدایتوں کی روشنی پھیلا دیتے ہیں۔
اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشِمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: بےشک لوگوں میں کچھ وہ ہیں جو بھلائی کی چابیاں ہیں اور بُرائی کا تالا ہیں۔ مزید فرمایا:پس خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جس کے ہاتھ پر اللہ پاک نے بھلائی کی چابیاں رکھ دی ہیں۔([2])
علمائے کرام فرماتے ہیں: یہ شخص جو بھلائی کی چابی ہوتا ہے، اس کی یہ شان ہے کہ *اسے دیکھ کر لوگوں کو نیکی یاد آتی ہے *یہ جہاں جاتا ہے، نیکیوں کو دُھوم ڈال دیتا ہے *بولتا ہے تو اس کے منہ سے نیک باتیں نکلتی ہیں *سوچتا ہے تو نیکی کی بات سوچتا ہے، اس کا باطِن بھی نیکی پر ہوتا ہے یہاں تک کہ جو بندہ اس کی صحبت میں بیٹھ جائے، وہ بھی نیک بَن جاتا ہے۔([3]) کاش! ہم بھی ایسے ہی بن جائیں۔
مِری عادتیں ہوں بہتر بنوں سُنَّتوں کا پیکر مجھے مُتَّقی بنانا مَدنی مدینے والے
شہا! ایسا جذبہ پاؤں کہ میں خوب سیکھ جاؤں تری سنّتیں سکھانا مَدنی مدینے والے([4])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami