Share this link via
Personality Websites!
477725
9444
بھی اپنا مددگار تسلیم کرتا ہے، ایسے خوش نصیب اور خوش عقیدہ لوگ اللہ پاک کا گروہ ہیں اور اللہ پاک کا گروہ کبھی مَغْلُوب نہیں ہوتا، ہمیشہ غالِب ہی رہتا ہے۔
دشمن اگرچہ گھات میں ہے کوئی غم نہیں ان کی مدد رہے تو بگاڑ اپنا کیا سکے
عطّارؔ تیرے حامی و ناصِر ہیں مصطفےٰ کس کی مجال ہے کہ جو تجھ کو دبا سکے([1])
جوتی مُبارک نے ڈاکوؤں کا کام تمام کر دیا
شیخ ابو عَمْرو اور شیخ عَبْدُ الْحَق حَرِیمی رَحمۃُ اللہ علیہما فرماتے ہیں : 555 ہجری کی بات ہے، 3 صفر شریف اتوار (Sunday) کو ہم حُضُورِ غوثِ اعظم شیخ عَبْدُالْقَادِر جِیلانی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کے مدرسے میں حاضِر تھے، اس وقت حُضُورِ غوثِ اعظم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ لکڑی کے چپل پہنے ہوئے وُضُو فرمایا، وُضُو فرمانے کے بعد آپ نے 2 رکعت نَفْل ادا کیے، نَماز سے فارِغ ہو کر آپ نے بلند آواز سے پُکار کر کچھ کہا اور ایک چپل کو ہوا میں پھینک دیا، پھر اسی طرح دوسری کو بھی پھینکا، دونوں چپلیں ہماری نَظَر وں سے غائِب ہو گئیں۔ آپ دوبارہ اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔ ہم میں سے کسی کو وَاقِعہ (Incident) مَعْلُوم کرنے کی جُرْات نہ ہوئی۔
23 دن گزرنے کے بعد غوثِ پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کے مدرسے میں ایک قَافلہ آیا، قافلے والوں نے کہا : ہم نے غوثِ پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی خِدْمت میں نذرانہ پیش کرنا ہے۔ چنانچہ ہم نے غوثِ پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ سے اجازت (Permission) طلب کی۔ فرمایا : قافلے والوں کو اندر آنے دو اور جو کچھ وہ دیں لے لو! ہم نے قافلے والوں کو اندر آنے دیا، انہوں نے بہت سا سامان پیرانِ پیر حضور غوث پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہکی بارگاہ میں نذرانہ پیش کیا، اس سامان میں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami