Share this link via
Personality Websites!
477722
9444
وضاحت:اے پیارے غوث پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ! اے کاش! آپ کا نامِ مُبارَک میرے دل پر لکھا ہو، تاکہ شیطان لعین جو ربِّ کریم کی بارگاہ سے دُھتکارہ ہوا ہے، آپ کی شاہی مُہر دیکھ کر فورًا واپس چلا جائے، آپ کےصدقے سے شیطان کے شر سے مَحْفُوظ رہوں گا۔
صحابئ رسول حضرت بَراء بن عازِب رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم بارگاہِ رسالت میں بیٹھے تھے، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے پوچھا: اَیُّ عُرَی الْاِسْلَامِ اَوْثَقُ یعنی اسلام کی سب سےمضبوط رَسِّی کون سی ہے؟ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم نے * عرض کیا: نماز۔ فرمایا: نماز بہت اچھی ہے مگر میرے سوال کا جواب یہ نہیں ہے* پھر عرض کیا: زکوٰۃ دینا۔ فرمایا: یہ عمل بھی بہت اچھا ہے مگر میرے سوال کا جواب یہ نہیں ہے* پِھر عرض کیا: رمضان کریم کے روزے۔ فرمایا: روزے بھی بہترین عِبَادت ہیں مگر میرے سُوال کا جواب یہ بھی نہیں ہے* پھر عرض کیا: حج، فرمایا: یہ بھی بہت اچھا عمل ہے لیکن میرے سوال کا جواب یہ نہیں* صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم نے عرض کیا: راہِ خدا میں جنگ۔ فرمایا: یہ بھی بہترین عِبَادت ہے مگر میرے سوال کا جواب کچھ اور ہے۔ پِھر آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے خُود ہی جواب دیتے ہوئے فرمایا: بےشک ایمان کی سب سے مضبوط رَسِّی یہ ہے کہ تم اللہ پاک کی رضا کے لیے (اس کے بندوں مثلاً اولیائے کرام سے) محبّت کرو!([1])
پتا چلا؛ *اللہ پاک کے مَحْبُوب بندوں کی محبّت *صحابۂ کرام کی محبّت *اَہْلِ بیتِ پاک کی محبّت *اَوْلیائے کرام کی محبّت *غوث و خواجہ، داتا و رضا رَحمۃُ اللہ علیہم کی محبّت
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami