Share this link via
Personality Websites!
477721
9444
جواب دیا ہے، میں آپ کو ایک مثال کے ذریعے سمجھاتا ہوں، ہمارے ہاں عام طَور پر ہوتا ہے، ہم نے سَفَر کرنا ہو، رات کا وقت ہو، سٹرک سُنسان ہو تو گزرتے ہوئے ڈر لگتا ہے، خوف آتا ہے کہ کہیں کوئی ڈاکو نہ آجائے، راستے میں کوئی لُوٹ نہ لے۔ ایسی حالت میں ہمارے ہاں موٹر سائیکل سوار جو ہوتے ہیں، وہ کیا کرتے ہیں؟ ذرا رُک کر انتظار کرتے ہیں، کوئی ٹرک، ٹرالا وغیرہ بڑی گاڑی آجائے تو اس کے پیچھے پیچھے چل پڑتے ہیں، اس سے تسلی رہتی ہے، خوف نہیں رہتا۔
مفتی صاحب رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: (یعنی یہاں بھی یہی مُعَاملہ ہے) *ایمان بھی قُبُول کر لیا *نیک اعمال بھی کرتے ہیں *نمازیں بھی پڑھتے ہیں *روزے بھی رکھتے ہیں *زکوٰۃ بھی دیتے ہیں *حج بھی کر لیے ہیں *تِلاوت بھی کرتے ہیں اور *بھی نیک اَعْمال کرتے رہتے ہیں مگر یاد رکھو! راستہ بڑا خطرناک ہے، اس راستے میں شیطان بھی ہے، جس کا دعویٰ ہے کہ *میں آگے، پیچھے، دائیں، بائیں سے حملہ کروں گا *ایمان بھی چھینوں گا *اعمال بھی برباد کروں گا *اس رستے پر نفسِ اَمّارہ کا بھی خطرہ ہے اور بھی بہت سارے خطرے موجود ہیں، لہٰذا اللہ پاک نے فرمایا:
وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ(۱۱۹)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔
یعنی اے میرے مَحْبُوب کے غُلامو! سچوں کے ساتھ ہو جاؤ! تمہارا ایمان اور تمہارے اَعْمال بخیریت ٹھکانے پہنچ جائیں گے۔([1])
دِل پہ کُندہ ہو ترا نام کہ وہ دُزدِ رجیم اُلٹے ہی پاؤں پِھرے دیکھ کے طُغْرَا تیرا([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami