Share this link via
Personality Websites!
477720
9444
میری دُعا قبول کی اور شیخ طاہر لاہوری کی بدبختی کو خوش بختی میں تبدیل کر دیا۔([1])
اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم فقیروں کے حاجت رَوا غوث اعظم
مریدوں کو خطرہ نہیں بحرِ غم سے کہ بیڑے کے ہیں ناخدا (رکھوالے) غوث اعظم
قسم ہے کہ مشکل کو مشکل نہ پایا کہا ہم نے جس وقت یا غوث اعظم([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
وَلِیوں کے ساتھ ہونے کا قرآنی حکم
پیارے اسلامی بھائیو! اَلحمدُ للہ! ولیوں کا ساتھ پانے، ان کے ساتھ نِسْبت قائِم کرنے اور دِلی طَور پر ان کے ساتھ جُڑے رہنے کی بہت برکتیں ہیں۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ(۱۱۹) (پارہ:11، سورۂ تَوْبَہ:119)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔
یہاں اللہ پاک نے 2حکم دئیے ہیں: (1):اے ایمان والو! تقویٰ اختیار کرو! (2):پِھر فرمایا: سچوں کے ساتھ ہو جاؤ...!!
یہاں ایک سُوال ذہن میں اُبھرتا ہےکہ جب ایمان بھی حاصِل ہو گیا، تقویٰ بھی حاصِل کر لیا، اب اس کے بعد سچوں کے ساتھ رہنے کا حکم کیوں دیا جا رہا ہے؟ بندہ ایمان والا بھی ہے، نیک پرہیزگار، تقویٰ والا بھی ہے، اب بھی سچوں کے ساتھ کی ضرورت کیوں ہے؟
مَشْہُور مُفَسِّرِ قرآن، مفتی احمد یار خان نعیمی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے اس کا بڑا خوبصُورت
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami