Share this link via
Personality Websites!
477719
9444
عَلَیْہ کے 2شہزادے ان کے پاس پڑھا کرتےتھے۔ ایک مرتبہ یُوں ہوا کہ حُضُور مُجَدِّدْ اَلْف ثَانی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے عالَمِ کشف میں (لَوحِ مَحْفُوظ پر نگاہ ڈالی اور ) دیکھا کہ شیخ طاہِر بندگی لاہوری شَقِی ہیں (یعنی ان کا خاتمہ اچھا نہیں ہو گا)۔ مُجَدِّدْ اَلْف ثَانی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے یہ بات اپنے بیٹوں کو بتا دی۔ اب جب دونوں بیٹے استاد صاحِب کی خِدْمت میں پہنچے تو چہرے پر پریشانی تھی۔ استاد صاحِب نے پوچھا: بچو! کیا بات ہے؟ شہزادوں نے سچی بات بتا دی کہ اَبّو جان کو کشف ہوا، انہوں نے بتایا کہ آپ کا انجام اچھا نہیں ہو گا۔
اب یہ شیخ طاہِر بندگی لاہوری جو تھے، اگر کسی گھمنڈ میں رہنے والے ہوتے تو اُلٹا فتوے لگانے بیٹھ جاتے، مَعَاذَ اللہ! مُجَدِّدْ اَلْف ثَانی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کو بُرا بھلا کہنے لگتے مگر یہ عاشقِ اَوْلیا تھے، ولیوں سے عقیدت رکھنے والے تھے۔ جانتے تھے کہ مُجَدِّدْ اَلْف ثَانی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ سچّے ولی ہیں، چنانچہ شہزادوں ہی سے کہا کہ اپنے والِد صاحِب سے کہو میرے حق میں دُعا فرمائیں، جس رَبّ کائنات نے ان پر میری تقدیر ظاہِر کی ہے، ان کی دُعا سے وہ میری تقدیر بدلنے پر بھی قدرت رکھتا ہے۔
اب شہزادے گھر پہنچے، والد صاحب کی خدمت میں عرض پیش کی، حُضُور مُجَدِّدْ اَلْف ثَانی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے دُعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے، پُوری تَوَجُّہ سے دُعا فرمائی مگر تقدیر نہ بدلی۔ مُجَدِّدْ اَلْف ثَانی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: اس وقت مجھے اچانک یاد آیا کہ غوثِ پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے فرمایا ہے: میری دُعا سے قضائے مُبْرَم (یعنی جو نہ تو تقدیرِ مُعَلَّق ہے اور نہ تقدیر مبرم بلکہ مشابہ بہ مبرم تقدیر) بھی بدل جاتی ہے۔ چنانچہ میں نے دُعا کی: اے اللہ پاک! میں تیرے حُضُور غوثِ پاک شیخ عبد القادِر جیلانی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کا واسطہ پیش کرتا ہوں، شیخ طاہِر لاہوری کی بدبختی کو سعادت اور خوش بختی میں تبدیل فرما دے۔ فرماتے ہیں: اس وسیلے کی برکت سے اللہ پاک نے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami