Share this link via
Personality Websites!
477740
9444
ہندکے ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے:میں کفر کے اندھیروں میں بھٹک رہا تھا،ایک دن کسی نےشیخِ طریقت،امیرِ اہلسنّت مولانا محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکاتہمُ العَالِیَہ کا رسالہ احترامِ مسلم تحفے میں دیا مَیں نے پڑھا تو حیران رہ گیا کہ جن مسلمانوں کو میں نے ہمیشہ نفرت کی نگاہ سے دیکھا ہے ان کا مذہب اسلام اس قدر اَمن کا پیغام دیتا ہے! رسالے میں لکھی باتیں تاثیر کا تیر بن کر میرے دل میں اتریں اور دِل میں اسلام کی محبت گھر کر گئی۔ایک دن میں بس میں سفر کر رہا تھا کہ چند داڑھی اور عمامے والے اسلامی بھائیوں کا قافلہ بھی بس میں سوار ہو ا،میں دیکھتے ہی سمجھ گیا کہ یہ مسلمان ہیں،میرے دل میں اسلام کی محبّت تو پیدا ہو ہی چکی تھی لہٰذا میں اِحترام کی نظر سے انہیں دیکھنے لگا، اتنے میں ایک اسلامی بھائی نے نبئ مکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی شان میں نعت شریف پڑھنی شروع کردی،مجھے اس کاانداز بہت اچھا لگا،میری دلچسپی دیکھ کران میں سے ایک نے مجھ سے گفتگو(Conversation) شروع کردی۔ وہ سمجھ گیا کہ میں مسلمان نہیں ہوں،اس نے مسکراتے ہوئے بڑے دلنشین انداز میں مجھ سے کہا، مَیں آپ سے اسلام قبول کرنے کی د رخواست(Request) کرتا ہوں،میں رسالہ احترامِ مسلم پڑھ کر پہلے ہی دلی طور پر اسلام کا شیدائی ہوچکا تھا،اس کے محبت بھرےانداز نے دل پر مزید اثر ڈالااور اَلحمدُ للہ! میں کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔([1])
ترا شکر مولیٰ دیا دینی ماحول نہ چُھوٹے کبھی بھی خدا دینی ماحول
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami