Share this link via
Personality Websites!
477736
9444
کے بعد قُلْ ہُوَ اللہ شریف ( یعنی سورۂ اِخْلاص مکمل ) 11، 11 مرتبہ پڑے، سلام پھیرنے کے بعد سرکارِ عالی وقار، مکی مدنی تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم پر دُرُوْد شریف پڑھے، پھر بغداد شریف کی طرف 11 قدم چل کر میرا نام پُکارے اور اپنی حاجَت بیان کرے، اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! اس کی حاجَت (Need) پُوری ہو گی۔([1])
آپ جیسا پیر ہوتے کیا غَرَض دَر دَر پھروں آپ سے سب کچھ ملا یاغوثِ اعظم دَسْت گِیر([2])
پیارے اسلامی بھائیو! یہ نَمازِ حاجَت جو حُضُورِ غوثِ پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے بتائی، اسے نمازِ غوثیہ کہتے ہیں۔ بہت مُجَرَّب (Proven) ہے ( یعنی اِس طرح نماز پڑھنے کاکئی ایک کوتجربہ (Experience) ہواہے اور اس کا فیضان ملا ہے )، جب بھی کوئی حاجَت ہو، کوئی مشکل آ جائے، پریشانی ہو، بیماری، قرض داری ہو، یہ نَماز پڑھیے!بہتر ہے کہ مغرب کی نماز کے بعد پڑھیے!حُضُور غوثِ پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کے وسیلے سے دُعا کیجیے!اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! مُراد پُوری ہو گی۔یہ بھی سمجھ لیجئےکہ پاک و ہند سے بغداد شریف کی سَمت مغرِب وشمال یعنی West and North کے تقریباً درمیان میں ہے۔
حُسْنِ نِیَّت ہو خطا پھر کبھی کرتا ہی نہیں آزمایا ہے، یگانہ ہے دوگانہ تیرا([3])
وضاحت: یہ بات تجربہ شُدہ ہے کہ اِخْلاص کے ساتھ نمازِ غوثیہ پڑھی جائے تو ناکامی (Failure) نہیں ہوتی بلکہ جس مقصد کے لیے پڑھی جائے، وہ مقصد پُورا ہوتا ہے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami