Share this link via
Personality Websites!
477718
9444
عُلَمائے کرام فرماتے ہیں: دُعا کی مثال ایک پرندے جیسی ہے اور درود اُس کا شَہْ پَر (یعنی سب سے مضبوط پَر) ہے، اسی کے ذریعے دُعا آسمانوں کی طرف پرواز کرتی ہوئی،([1]) اللہ پاک کی بارگاہ میں پہنچتی اور قُبُول ہوتی ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ دُعائیں بھی کَثْرت سے مانگا کریں کہ دُعا خُود عبادت بلکہ عِبَادت کا مغز ہے([2]) اور ہر دُعا کے اَوَّل آخر درودِ پاک بھی لازمی پڑھا کریں کہ یہ بہترین وظیفہ ہے، اس کی بَرَکت سے اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! دُعائیں قُبُول ہوں گی۔
دعا کے ساتھ نہ ہووے اگر درود شریف نہ ہووے حشر تلک بھی بر آورِ حاجات
قبولیت ہے دعا کو درود کے باعث یہ ہے درود کہ ثابت کرامت و برکات([3])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
حدیثِ پاک میں ہے:اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّات اعمال کا دار و مدار نیّتوں پر ہے۔([4])
اے عاشقان ِ رسول! اچھّی اچھّی نیّتوں سے عمل کا ثواب بڑھ جاتا ہے۔ آئیے! بیان سننے سے پہلے کچھ اچھّی اچھّی نیّتیں کر لیتے ہیں، نیّت کیجیے!*رضائے الٰہی کے لیے بیان سُنوں گا*بااَدَب بیٹھوں گا* خوب تَوَجُّہ سے بیان سُنوں گا*جو سُنوں گا، اُسے یاد رکھنے، خُود عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
ایک بزرگ تھے: شیخ طاہِر بندگی لاہوری رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ۔ حُضُور مُجَدِّدْ اَلْف ثَانی رَحمۃُ اللہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami