Share this link via
Personality Websites!
477735
9444
اور مجھے 100 اشرفیاں عطا فرمائیں۔ اتنا کہنے کے بعد اُس بوڑھے آدمی نے اپنا عُوْد (یعنی موسیقی کا آلہ) توڑا اور سچّے دِل سے توبہ کر کے نیک انسان بن گیا۔ ([1])
سُبْحٰنَ اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! دیکھیے! اس بوڑھے آدمی نے دُکھ، دَرْد اورپریشانی کے عالَم میں فریاد کس کے حُضُورکی؟ اللہ پاک کے حُضُور...!! اور اشرفیاں بھیج کر اس کی مدد کس نے کی؟ حُضُور غوثِ پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے...!! مَعْلُوم ہوا؛ مدداللہ پاک ہی کی ہے، وہی فریادسننے والا، دُکھی دِلوں کو اطمینان وسکون (Serenity) عطا فرمانے والا ہے مگر اس نے اپنی مدد کے لیے ذرائع مختلف رکھے ہیں، اَلحمدُ للہ! نبی، ولی سب مشکل کُشا ہیں، حاجت روا ہیں، مددکرنے والے ہیں اور ان کی مدد اپنی ذاتی طاقت سے نہیں بلکہ حقیقت میں اللہ پاک ہی کی مدد ہے جو ان کے ذریعے کی جاتی ہے۔
خیر! یہ بات دوپہر کے سورج کی طرح بالکل واضِح اور صاف ہے کہ اللہ پاک کے نبیوں، ولیوں اور نیک لوگوں سے ان کی زندگی میں، ان کی وفات کے بعد بھی مدد مانگنا، انہیں اپنا مددگارسمجھنا ہرگز ہر گزر بُرا نہیں ہے بلکہ یہ اچھا عمل کئی مشکلات کا بہترین حل ہے۔ بَہْجَۃُ الْاَسْرَار شریف میں ہے؛ حضورِ غوثِ پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے فرمایا : جس نے کسی مصیبت میں مجھ سے فریاد کی، وہ مصیبت جاتی رہی، جس نے کسی سختی میں میرا نام پُکارا وہ سختی دُور ہو گئی، جو میرے وسیلے سے اللہ پاک کی بارگاہ میں اپنی حاجَت پیش کرے، وہ حاجَت پُوری ہو گی، جو شخص 2 رکعت نفل پڑھے اور ہر رکعت میں اَلحمدُ للہ! شریف ( یعنی سُورۂ فاتحہ )
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami