Share this link via
Personality Websites!
477734
9444
موسیقی کا ایک آلہ مثلاً گٹار) بجا رہا ہو گا، یہ اشرفیاں اسے دینا اور اسے ساتھ لے کر میرے پاس آ جانا۔ خادِم نے فورًا حکم پر عمل کیا، جب وہ قبرستان پہنچا تو وہاں ایک بوڑھا موجود تھا، عُود بجا رہا تھا، خادِم نے بوڑھے کو سلام کیا اور کہا: حُضُور غوثِ پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے تمہارے لیے 100 اشرفیاں بھیجی ہیں، یہ سنتے ہی اس بوڑھے آدمی نے چیخ ماری اور زمین پر گر کر بے ہوش ہو گیا۔ جب ہوش آیا تو خادِم نے کہا: حُضُور غوثِ پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ تمہیں یاد فرما رہے ہیں۔ چنانچہ وہ بوڑھا آدمی فورًا ہی ساتھ چل پڑا، جب یہ دونوں حضرات بارگاہِ غَوْثیت میں حاضِر ہوئے تو آپ نے فرمایا: اس بوڑھے کو منبر پر لے آؤ! اسے منبر پر چڑھا دیا گیا، اب غوثِ پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے فرمایا: اپنا واقعہ بیان کرو! بوڑھا بولا: میں جوانی میں بہت اچھا گلوکار تھا، میری آواز سریلی تھی، لوگ بڑے شوق سے مجھے سنتے تھے، گزر اَوْقات بہت اچھی چل رہی تھی، پِھر میں بوڑھا ہو گیا، آواز پہلے جیسی نہ رہی، بس اسی وجہ سے میری مَقبُولِیَت کو زوال آ گیا، اب لوگوں نے میری طرف سے تَوَجُّہ ہٹا لی، مجھے سننا چھوڑ گئے، اسی دُکھ میں ایک دِن میں نے سوچا کہ زندہ لوگ میرا گانا نہیں سنتے تو نہ سُنیں، اب میں مُردَوں کو سُنایا کروں گا، یہ سوچ کر میں قبرستان چلا گیا، کبھی اس قبر کے پاس، کبھی اُس قبر کے پاس، یُوں گھوم پِھر کر میں نے گانا شروع کر دیا۔ اسی دوران میں ایک قبر کے پاس بیٹھا تھا کہ اچانک قبر کھل گئی، اس میں سے ایک شخص نکلا، اس نے کہا: اے شخص! کب تک مُردَوں کوسُناتا رہے گا...؟ اپنی فریاد اللہ پاک کی بارگاہ میں پیش کر،بیشک وہ حَیّ و قَیُّوم ہے۔ یہ منظردیکھ کر میں بےہوش ہو گیا، جب ہوش آیا تو عقل بھی ٹھکانے آ چکی تھی، چنانچہ میں نے اللہ پاک کی بارگاہ میں فریاد پیش کی۔ ابھی رَبِّ کریم کے حُضور عرض کی ہی تھی کہ آپ کا خادِم پہنچ گیا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami