Share this link via
Personality Websites!
477733
9444
فرشتو! ایمان والوں کو ثابِت قدم رکھو! میں تمہارے ساتھ ہوں۔
غور فرمائیے! اللہ پاک نے فرشتوں کو بھیجا، اللہ پاک چاہتا تو فرشتوں کے بغیر ہی مدد فرماتا، اللہ پاک چاہتا تو غیر مسلم اپنے گھروں ہی میں اوندھے ہو جاتے، میدانِ بدر میں آ ہی نہ سکتے مگر اللہ پاک نے فرشتوں کو بھیجا، کیوں؟ اس لیے کہ وہ اللہ ہے، وہ رَبّ ہے، وہ قُدْرتوں والا ہے، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، کوئی اس سے پوچھنے کی ہِمَّت نہیں کر سکتا۔
پھر غور فرمائیے!غزوۂ بدر میں مدد کرنے کون آیا؟فرشتے آئے لیکن اللہ پاک فرماتا ہے :
وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ (پارہ:4، سورۂ آلِ عِمْرَان:123)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اور بیشک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی۔
مدد کرنے آئے کون؟ فرشتے۔اللہ پاک کیا فرماتا ہے؟اللہ نے مدد کی۔مَعْلُوم ہوا؛ اللہ پاک کے مُقَرّب بندے، اللہ پاک کی عطا سے، اللہ پاک کی دِی ہوئی طاقت سے مدد کریں تو یہ غیرُ اللہ کی مدد نہیں بلکہ یہ اللہ پاک ہی کی مدد ہے جو وہ اپنے بندوں کے ذریعے سے کرواتا ہے۔
ایک مرتبہ حُضُور غوثِ پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ بیان فرما رہے تھے، دورانِ بیان اچانک آپ خاموش (Silent) ہو گئے اور فرمایا: 100 اشرفیاں پیش کی جائیں گی تو آگے بیان کروں گا۔ اتنا سننا تھا کہ ایک، دو نہیں بلکہ 40 افراد 100، 100 اشرفیاں لے کر حاضِر ہو گئے، آپ نے ایک خوش نصیب سے اشرفیاں قبول فرمائیں اور اپنے خادِم حضرت ابو رضا رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کو دے کر فرمایا: فُلاں قبرستان میں چلے جاؤ!وہاں تمہیں ایک بوڑھا نظر آئے گا، وہ عُوْد (یعنی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami