Share this link via
Personality Websites!
477731
9444
بڑا اَہَم سوال (Important Question)ہے، بہت سارے خوش عقیدہ لوگ بھی اس شیطانی وسوسے کا شِکار ہو جاتے ہیں۔ اس کا جواب کیا ہے؟ آئیے! ایک حدیثِ پاک سنتے ہیں۔ حدیثِ حَسَن ہے یعنی سند کے اعتبار سے اس حدیث میں کلام نہیں، بہت سارے محدِّثِین نے اس حدیث کو ذِکْر کیا اور بڑے بڑے عُلَما و مُحَدِّثِین نے خود اس حدیثِ پاک کا تَجْرِبَہ بھی کیا ہے، کیا حدیث شریف ہے؟ سنیے! بدری صحابی حضرب عُتْبَہ بِنْ غَزْوَان رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ پاک کے مَحْبُوب نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی کوئی چیز گم ہو اور ہو بھی سُنْسَان جگہ (Deserted Place) پر جہاں کوئی مددگار نہ ہو، ایسی حالت میں اگر وہ مدد چاہےتو یوں کہے: يَا عِبَادَ اللهِ اَغِيثُوْنِيْ، يَا عِبَادَ اللهِ اَغِيثُوْنِيْ اے اللہ کے بندو! میری مدد کرو! اے اللہ کے بندو! میری مدد کرو! ([1])
اب دیکھیے! یہ تعلیم کون دے رہا ہے؟ *ہمارے آقا، ہمارے ہادی، ہمارے راہنما صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم! دُنیا کی وہ ہستی جو سب سے بڑے توحید پرست ہیں *وہ آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم جو سب سے بڑھ کر اللہ پاک کی معرفت رکھنے والے ہیں *وہ آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم جو سب سے زیادہ توحید کا چرچا کرنے والے ہیں *وہ ہادِی و راہنما صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ہمیں تعلیم دے رہے ہیں کہ اگر تم ایسی جگہ ہو، جہاں بظاہِر کوئی مددگار نظر نہیں آ رہا، ایسی جگہ اگر مدد چاہیے ہو تو کس کو پُکارو! اللہ کے بندوں کو...!
غور فرمائیے! کیا محبوبِ ذیشان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم (مَعَاذَ اللہ!) نہیں جانتے کہ اللہ پاک مددگار ہے تو اسی سے مدد مانگی جائے، انہوں نے ہی تو ہمیں اللہ پاک سے مانگنا سکھایا ہے، یعنی جن مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے ہمیں اللہ پاک سے مانگنا سکھایا ہے، وہی مَحْبُوب صَلَّی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami