Share this link via
Personality Websites!
477729
9444
وضاحت: یعنی وہ غافِل (Heedless) لوگ ہیں جو موت کو زندگی کا اختتام (End) سمجھتے ہیں، موت اَصْل میں اس دُنیوی ظاہِری زندگی کی شام ہے مگر ہمیشہ کی زندگی لیے ایک نئی صبح ہوتی ہے، یعنی موت کے بعد ایک ایسی زندگی کی ابتداہوتی ہے، جس کے بعد کبھی موت نہیں ہو گی۔
یاشیخ عبد القادِر جیلانی! شَیْئًا لِلّٰہ!
میاں شیر محمد شَرقپُوری رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ ایک ولیِ کامِل گزرے ہیں۔ ایک دِن ایک شخص آپ سے ملاقات کے لیے حاضِر ہوا، یہ آنے والا اَولیائے کرام رَحمۃُ اللہ علیہم کے مُتَعَلِّق وسوسوں کا شِکار تھا، جب یہ آپ کی خِدْمت میں حاضِر ہوا تو آپ کا تقویٰ، پرہیزگاری، سنتوں پر عمل وغیرہ دیکھ کر بہت متاثِّر (Impress) ہوا، پِھر اس کی نظر اچانک دِیوار پر پڑی، وہاں لکھا تھا: یَا شَیخ عَبْدُالْقَادِر جِیْلَانِیْ شَیْئًا للہ! یعنی اے شیخ عبد القادِر جیلانی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ! اللہ پاک کے واسطے مجھے کچھ عطا کیجیے! یہ دیکھ کر تو وہ غُصّے(Angry) ہو گیا، اس نے ناراضگی کے انداز میں اپنے وسوسوں کا اِظْہارکرنا شروع کر دیا۔ میاں شیر محمد شرقپوری رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ ولیِ کامِل تھے اور اَوْلیائے کرام رَحمۃُ اللہ علیہم صاحِبِ قَال نہیں بلکہ صاحِبِ حال ہوتے ہیں یعنی یہ کہہ کر کم سمجھاتے ہیں، زیادہ تر کر کے دکھایا کرتے ہیں۔ آپ نے اس کے غصیلے لہجے پر صبر و تحمل کیا، پِھر جب وہ شخص جانے لگا تو آپ بھی دروازے تک اس کے ساتھ ساتھ گئے، جب دروازے کے قریب پہنچے تو آپ نے بلند آواز سے کہا: یَا شَیْخ عَبْد القَادِرِجِیْلَانِیْ شَیْئًا للہ! اے شیخ عبد القادِر جیلانی! اللہ پاک کے واسطے کچھ عطا کیجیے! بس اتنا کہنا تھا کہ ایک بہت حسین، خوبصُورت اور صاحبِ جلال بزرگ ظاہِر ہوئے، ان کا جلال
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami