Share this link via
Personality Websites!
477728
9444
آیتِ کریمہ واضِح طور پر شہید کی زندگی کو ثابِت کر رہی ہے مگر سُوال ہے: شہید کون؟ وہ جو غیر مسلموں سے جنگ کرتے ہوئے شہادت پا جائے؟ نہیں...!!صِرْف وہ نہیں بلکہ شہید اور بھی بہت سارے ہیں۔ مسندِ امام احمد بن حنبل میں حدیثِ پاک ہے، تاجدارِ کائنات، مکی مَدَنی سردار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: اِنَّ اَکْثَرَ شُہَدَاءِ اُمَّتِی لَاَصْحَابُ الْفُرُشِ یعنی میری اُمت کے زیادہ تَر شہید وہ ہیں، جنہیں بستر پر موت آتی ہے،وَ رُبَّ قَتِیْلٍ بَیْنَ الصَفَّیْنِ اللہ اَعْلَمُ بِنِیَّتِہٖ ورنہ کتنے دورانِ جنگ مرنے والے ایسے ہیں کہ ان کی نیت بس اللہ پاک ہی بہتر (Better)جانتا ہے۔ ([1])
مَعْلُوم ہوا؛ شہیدصِرْف وہ نہیں جو جنگ میں شہادت پا جائے بلکہ اُمّت کے زیادہ تر شہدا ء وہ ہیں جنہیں فِیْ سَبِیْلِ اللہ ِ(یعنی نیکیاں کرتے ہوئے، اللہ و رسول کی اطاعت میں) بستر پر موت آتی ہے۔ آپ خُودغور فرمائیے! حدیثِ پاک میں اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنے (یعنی نفس کو سدھارنے) کو جہادِ اَکْبَر قرار دیا گیا ہے([2]) تو جو جہادِ اَصغَر کرے یعنی غیر مسلموں کے ساتھ جنگ کرے، شہید ہو جائے وہ تو زندہ ہے،رَبّ فرماتا ہے: اسے ہر گز مردہ مت کہو! تو جو جہادِ اَکْبَر کرنے والے ہیں، وہ پِھر زندہ کیوں نہیں ہوں گے...؟
یقیناً اَوْلیائے کرام رَحمۃُ اللہ علیہم اپنے مزارا ت میں زندہ ہیں اور اللہ پاک کی عطا سے، اس کی توفیق سے، اس کے فضل و کرم سے ہم غلاموں کی مدد بھی فرماتے ہیں۔ ڈاکٹر اقبال کہتا ہے:
موت کو سمجھے ہیں غافِل اختتامِ زندگی ہے یہ شامِ زندگی، صبحِ دوامِ زندگی([3])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami