Share this link via
Personality Websites!
477727
9444
مددگار مانے، اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! وہ ہر میدان میں کامیاب و کامران (Successful) رہتا ہے، اللہ پاک اور اس کی عطا سے اس کے پیارے رسول صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اور اَوْلیائے کرام اس کی مدد فرماتے اور ہر مشکل سے نجات دلاتے ہیں۔
کہا جس نے یَاغَوْث اَغِثْنِی تو دَم میں ہر آئی مصیبت ٹلی غوثِ اعظم!([1])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! بعض لوگوں کے دِل میں وسوسہ آتا ہے کہ جو اَوْلیائے کرام رَحمۃُ اللہ علیہم، نیک لوگ زندہ ہیں، ان سے تو مدد مانگ لی جائے مگر جو وفات پا گئے، آخِر اُن سے مدد کیسے مانگ سکتے ہیں؟ اس وسوسے کا سادہ سا جواب ہے کہ بیشک اَوْلیائے کرام رَحمۃُ اللہ علیہم دُنیا سے پردہ فرماتے ہیں، ان کی رُوح قبض کی جاتی ہے، ان پر موت طارِی ہوتی ہے مگر اللہ پاک کی عطا سے، اس کے فضل و کرم سے اَوْلیائے کرام رَحمۃُ اللہ علیہم اپنے مزارات میں زندہ ہوتے ہیں۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌؕ-بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ(۱۵۴) (پارہ:2، سورۂ بَقَرَہ:154)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں۔
اس آیتِ کریمہ میں صاف صاف فرما دیا گیا کہ جو اللہ پاک کے رستے میں شہید ہو جائیں، انہیں مُردہ نہ کہو، وہ زندہ ہیں، تم ان کی زندگی (Life) کا شُعُور نہیں رکھتے، اب یہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami