Share this link via
Personality Websites!
476898
9395
ہیں، آپ پڑھتے ہیں:
وَ الضُّحٰىۙ(۱) وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰىۙ(۲)
اللہ! اللہ! مَحْبُوب صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم قرآن کی تِلاوت فرما رہے ہیں اور قرآن کیا کہہ رہا ہے: اے مَحْبُوب! آپ کے رُخِ روشن کی قسم! آپ کی مبارک زُلفوں کی قسم!
یہ صرف ایک تصور کی بات ہےجو اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ فرما رہے ہیں: کہ جس طرح ہمارے پیارے نبی، رسولِ ہاشمی صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم صُبح و شام، دِن رات قرآن کی تِلاوت فرمایا کرتے ہیں، ایسے ہی آپ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کے مبارک رُخْسار کا ذِکْر کرنا قرآن کا وظیفہ ہے۔
حضرت اَنس بن مالِک رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس دِن جب پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے دُنیا سے ظاہری پردہ فرمایا، اُس روز مَحْبُوبِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم اپنے حجرۂ مبارکہ میں تھے، نماز کا وقت ہو گیا، ہم نے اِقامت پڑھی، پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہ عنہ مُصلے پر پہنچے، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہمنے پیچھے صفیں بنائیں اور جماعت کھڑی ہو گئی۔
ہم ابھی نماز پڑھ ہی رہے تھے کہ اتنے میں پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے حجرۂ پاک کا پردہ اُٹھایا۔ اب یہاں صحابئ رسول کے الفاظ سنیے! فرماتے ہیں:
يَنْظُرُ اِلَيْنَا وَهُوَ قَائِمٌ، كَاَنَّ وَجْهَهٗ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ
یعنی پیارے مَحْبُوب صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کھڑے تھے اور ہماری جانِب دیکھ رہے تھے،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami