Share this link via
Personality Websites!
476897
9395
مکی مدنی مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کا پیارا پیارا، روشن روشن، چمکدار چہرہ مبارک مراد ہے اور لَیْل سے آپ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کی پیاری پیاری کالی کالی زُلْفوں کی طرف اشارہ ہے۔([1]) مطلب یہ بنے گاکہ اے مَحْبُوب صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم ! ہمیں آپ کے چہرۂ پُرنُور کی قسم! آپ کی پیاری پیاری زُلْفوں کی قسم! آپ کے رَبّ نے نہ ہی آپ کو چھوڑا ہے، نہ آپ سے ناراض ہوا ہے۔
ہے کلامِ اِلٰہی میں شَمْسُ و ضُحیٰ تیرے چہرۂ نُور فزا کی قسم!
قسمِ شبِ تار میں راز یہ تھا کہ حبیب کی زُلْفِ دوتا کی قسم!([2])
وضاحت:اے میرے نور والے آقا! قرآن مجید میں وَالشَّمْس اور وَالضُّحٰی فرما کر اللہ پاک نےآپ کے چہرۂ انور کی قسم یاد فرمائی ہے اور وَالَّیْلِ اِذَا سَجٰی فرما کر آپ کی خم دار پیاری پیاری زلفوں کی قسم یاد فرمائی ہے۔
اور ایک جگہ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
جیسے قرآں ہے وِرْد اس گلِ مَحْبُوبی کا
یُوں ہی قرآں کا وظیفہ ہے وقار عارِض([3])
وضاحت: اس شعر کی وضاحت بڑی خوبصورت ہے، ذرا تَصَوُّر باندھیے! مسجدِ نبوی شریف ہے، ہمارے پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم تشریف فرما ہیں، مُصْحَفْ مبارک یعنی قرآنِ کریم سامنے ہے، آپ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم تِلاوت فرما رہے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami