Share this link via
Personality Websites!
476896
9395
روایت میں ہے: جب کبھی دِیدارِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کے لیے دِل بہت ہی بےچین ہو جاتا تو صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم مسلمانوں کی پیاری اَمِّی جان حضرت میمونہ رَضِیَ اللہ عنہاکی خِدْمت میں حاضِر ہو جاتے تھے، ان کے پاس پیارے مَحْبُوب صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کا آئینہ پاک تھا، حضرت میمونہ رَضِیَ اللہ عنہایادِ مصطفےٰ میں تڑپتے ہوئے صحابہ کو وہی آئینہ دے دیتیں، جب صحابی آئینے کے اندر دیکھتے تو انہیں اپنی صُورت نظر آنے کی بجائے، پیارے آقا و مولیٰ، مکی مَدَنی مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کا چہرۂ پُرنُور نظر آیا کرتا تھا۔ ([1])
مدتیں گزریں ملاقات ہوئی تھی تم سے پھر کوئی اور نہ آیا نظر آئینے میں
سُبْحٰنَ اللہ! گویا یہ آئینہ بھی رُخِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کا دِیوانہ تھا، جب اس نے رُخِ مصطفےٰ کو اپنے دِل میں اُتار لیا، اس کے بعد اسی عکسِ پاک کو اپنے اندر رکھ لیا، اب کسی اور عکس اپنے اندر اُترنے ہی نہیں دیتا تھا۔
پارہ: 30، سُورۂ والضُّحیٰ، آیت: 1 تا 3 میں اللہ پاک فرماتا ہے:
وَ الضُّحٰىۙ(۱) وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰىۙ(۲) مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ(۳)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: چڑھتے دن کے وقت کی قسم اور رات کی جب وہ ڈھانپ دے، تمہارے ربّ نے نہ تمہیں چھوڑا اور نہ ہی ناپسند کیا۔
عُلَمائے کرام فرماتے ہیں: اس مقام پر ضُحیٰ (یعنی چاشت کے وقت) سے پیارے آقا،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami