Share this link via
Personality Websites!
476895
9395
وضاحت: خامۂ قُدْرَت؛ یعنی قدرت کا قلم۔ دَسْتکاری؛ یعنی تَصْوِیر بنانا، مُصوَّرِی کرنا۔ اعلیٰ حضرت فرما رہے ہیں: قدرت کے قلم کا حُسْنِ دَستکاری بھی کیسا کمال ہے، اس قلم نے اپنے مَحْبُوب صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کی تَصْوِیر کیسی بےمثل و بےمثال بنائی ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو! میں آپ کو ایک لُطف کی بات بتاؤں؛ آئینہ جو ہوتا ہے، جس میں ہم اپنا مُنہ دیکھتے ہیں، شاعِروں کے ہاں آئینے کو بےوفَا شُمار کیا جاتا ہے۔ کسی نے کہا تھا:
آئِینَہ نَیْسْتْ دِلْ کَہ دَہَدْ جَا بَہ ہَرْ کَسَے
اِیْںْ پَارَۂِ عَقِیْق بَنَامِ تُو کَنْدَہ شُدْ
وضاحت: یعنی میرا دِل آئینہ نہیں کہ سب کو ہی اپنے اندر جگہ دیتا پِھرے۔ بلکہ میرا دِل عقیق نامی پتھر جیسا ہے کہ اے مَحْبُوب! اس میں تیرا نام نقش ہو چکا ہے، اب اس دِل میں اور کسی کے لیے جگہ نہیں ہے۔
تَو آئینہ جو ہے، اسے بےوفَا کہا جاتا ہے، جو اس کے سامنے آجائے، یہ اُسی کا عکس اپنے اندر اُتار لیتا ہے۔ ایک منٹ کی بھی دَیْر نہیں لگاتا، میں آئینے کے سامنے کھڑا ہو جاؤں، یہ اپنے اندر میرا عکس لے لے گا، میں ابھی ہٹا ہی ہوں، دوسرا آیا، آئینے کے اندر سے میرا عکس ختم ہو جائے گا، اس دوسرے کا عکس آجائے گا۔ یہ بےوفائی ہے۔ مگر قربان جائیے! یہ آئینہ بھی رُخِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کا دِیوانہ ہے۔پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے جب دُنیا سے ظاہِری پردہ فرما لیا، اب صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہمپر تَو گویا قیامت ٹوٹ گئی تھی، جنہیں چہرۂ مصطفےٰ دیکھے بغیر ایک پَل چین نہیں آتا تھا، اب اُنہیں یہ نعمت مُیَسَّر نہیں تھی۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami