Share this link via
Personality Websites!
476894
9395
شریف کے گِرْد سینکڑوں مجسمے رکھے ہوئے تھے، جن کی لوگ پُوجا کرتے تھے۔ روایت میں ہے: جیسے ہی سیدہ حلیمہ رَضِیَ اللہ عنہا کَعْبہ شریف کے پاس پہنچی، محبوبِ ذیشان صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کا چہرۂ پُرنُور دیکھتے ہی سارے مجسمے ایک ایک کر کے مُنہ کے بَل گرنے لگے۔
چاند سا چمکاتے چِہرہ نُور برساتے ہوئے آ گئے بدرُ الدُّجیٰ، اَہلاً وَّ سَہْلاً مرحبا
جُھک گیا کَعْبہ سبھی بُت مُنہ کے بل اَوندھے گرے دبدبہ آمد کا تھا، اَہلاً وَّ سَہْلاً مرحبا([1])
روایت میں مزید ہے: سیدہ حلیمہ رَضِیَ اللہ عنہا جب حجرِ اَسْوَد کو چومنے کے لیے اس کے قریب گئیں، مَحْبُوب صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم گود ہی میں تھے۔ حجرِ اسود کی بھی گویا عید ہو گئی تھی، محبوبِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم خود تشریف لے آئے ہیں۔ چنانچہ
فَخَرَج َالْحَجَرُ الْاَسْوَدُ مِنْ مَّکَانِہٖ حَتّٰی اِلْتَصَقَ بِوَجْہِهِ الْکَرِیْمِ
ترجمہ: حجرِ اَسْوَد (ذوقِ مسرّت، اور شوقِ محبّت میں) اپنی جگہ سے نکل آیا یہاں تک کہ پیارے مَحْبُوب صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کے چہرۂ پُرنُور کے ساتھ لپٹ گیا (اور بَوسے لینے لگ گیا)۔ ([2])
کیا ہی تَصْوِیر اپنے پیارے کی سنواری واہ واہ
سُبْحٰنَ اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! ہمارے آقا و مولیٰ، مکی مَدَنی مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کی کیا ہی نِرالی شان ہے، ایسا حُسْن بھی بَھلا کسی نے دیکھا ہو گا؟ اللہ اکبر! یہ وہ چہرۂ پُر نُور ہے حجرِ اَسْوَد جیسے جنّتی پتھر بھی اِس کے بَوسے لیتا ہے۔ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں نا؛
خامَۂ قُدْرت کا حُسْنِ دَسْتکاری واہ! واہ! کیا ہی تَصْوِیْر اپنے پیارے کی سنواری واہ! واہ!([3])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami