Share this link via
Personality Websites!
476907
9395
سینہ پاک کو بھرے رکھتی تھی۔([1])
خط کی گردِ دَہن، وہ دِل آراء پھبن سبزۂ نہرِ رحمت پہ لاکھوں سلام
رِیشِ خُوش مُعْتَدَل، مَرْہَمِ ریشِ دِل ہالۂ ماہِ نُدْرت پہ لاکھوں سلام([2])
وضاحت:پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے منہ شریف کے اردگرد داڑھی مبارکہ کے خط کا حسن ایسا ہے جیسے نہرِ رحمت کے کنارے اگنے والا سبزہ ، اِس حسن پر لاکھوں سلام ہوں۔ آپ کی موزوں ریشم مبارکہ زخمی دلوں کا مرہم ہے، یہ داڑھی مبارکہ یوں گولائی میں ہے جیسے چودہویں کے چاند کا دائرہ ہو ، اللہ اللہ اس حسن پر لاکھوں سلام ہوں۔
غرض کہ چہرہ مبارک، اس کا ہر ہر عضو، ہر ہر حِصّہ نہایت خوبصُورت تھا*حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم سے بڑھ کر حسین کسی کو نہیں دیکھا، آپ کا چہرہ مبارک اتنا نُورانی تھا کہ گویا اس چہرۂ پُرنُور میں سورج چمکتا ہو۔([3])
اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
ک گیسو، ہٰ دَہن، یٰ اَبْرو آنکھیں عٓ صٓ
کٓہیعٓصٓ اُن کا ہے چہرہ نُور کا([4])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami