Share this link via
Personality Websites!
476905
9395
سیاہ تھیں*مبارک پلکیں خوبصورت اور لمبی تھیں ([1])*مبارک آنکھوں کے سفید حِصّے میں سُرخ ڈورے تھے([2])*اور آپ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کی مبارک آنکھیں قدرتی طَور پر سُرْمَگِیں تھیں (یعنی آپ سُرمہ اگرچہ لگاتے تھے مگر سُرمہ لگانے کی حاجت نہ تھی)([3])*حضرت عبد اللہ بن عبّاس رَضِیَ اللہ عنہما فرماتے ہیں:پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کا بچپن مبارک تھا، دُوسرے بچے جب نیند سے بیدار ہوتے تو اُن کے بال اُلجھے ہوئے اور آنکھیں نیند آلود ہوتی تھیں، لیکن رسولِ خُدا، احمدِ مجتبیٰ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم جب نیندسے جاگتے تو سَرِ اَقْدَس پر تیل اور آنکھوں میں سُرمہ لگا ہوتا تھا۔ ([4])
*ہمارے پیارےنبی، رسولِ ہاشمی صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کی عادَت مبارکہ تھی کہ آپ حیا سے نگاہیں جھکائے رکھتے تھے اور جب کسی کودیکھتے تو عادت مبارکہ تھی کہ آنکھ کے گوشوں سے دیکھا کرتے تھے۔ ([5])
نیچی آنکھوں کی شَرْم و حَیا پر دُرود
اُونچی بِینی کی رِفْعَت پہ لاکھوں سلام([6])
*ناک مبارک اُونچائی کی طرف مائِل اور باریک تھی، درمیان کا حِصَّہ قدرے بلند
[1]... شمائل محمدیہ، باب ما جاء فی خلق رسول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ، صفحہ:12، حديث:7۔
[2]...دلائل النبوۃ للبیہقی ،باب صفۃ عین رسول اللہ ، جلد:1 ،صفحہ:210۔
[3]... دلائل النبوۃ للبیہقی ،باب صفۃ کفی رسول اللہ ، جلد:1 ،صفحہ:248۔
[4]...طبقات کبریٰ،ذکر ابی طالب و ضمہ رسول اللہ، جلد:1 ،صفحہ:96۔
[5]...دلائل النبوۃ للبیہقی ،حدیث ہند بن بی ہالۃ فی صفۃ رسول للہ ، جلد:1 ،صفحہ:287۔
[6]...حدائق بخشش،صفحہ:301۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami