Share this link via
Personality Websites!
476904
9395
مبارک اور چہرہ انوار کے اوپر فداء ہو ہو جاتے ہیں۔
*آپ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کے اَبْرُو مبارک کمان کی طرح خم دار، لمبے اور باریک تھے *دونوں اَبْرُو مبارک کے درمیان ایک رَگ تھی، جو جلال کے وقت اُبھر آتی تھی۔([1]) بعض دفعہ مَحْبُوب صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کے بال مبارک پیشانی پر دونوں اَبروؤں پر تشریف لے آتے، آپ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم انہیں ہٹائے بغیر انہیں پر سجدہ فرما لیا کرتے تھے۔حضرت جابِر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں:
راَیْتُ رُسُوْلَ اللہ يَسْجُدُ عَلٰى قِصَاصِ شَعَرِ هٖ
ترجمہ: میں نے آپ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کو اپنے مبارَک بالوں پر سجدہ کرتے دیکھا ہے۔ ([2])
خَمِ زُلْفِ نبی سَاجِد ہے مَحْراب دو اَبرو میں کہ یارَبّ! تُو ہی والی ہے سِیہ کارانِ اُمّت کا([3])
وضاحت:پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی مبارک پیشانی پر ابروؤں کی محراب کے درمیان زلفِ مبارک یوں جھکی ہوئی معلوم ہوتی ہے جیسے سجدے میں ہو اور اللہ پاک کی بارگاہ میں یوں عرض کر رہی ہے کہ اے میرے ربّ! تو ہی اِس امت کے گناہ گاروں، خطاکاروں اور سیاہ کاروں کا والی و مددگار ہے۔
*سرکارِ عالی وقار، مکی مدنی تاجدار صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کی مبارک آنکھیں خوب
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami