Share this link via
Personality Websites!
476902
9395
عُلمائے کرام نے اس کی چند وُجُوہات لکھی ہیں، ان میں سے ایک بیان کرتے ہوئےفرماتے ہیں: قرآنِ کریم کے ورقوں میں حُسْنِ ظاہِری بھی ہے، حُسْنِ معنوی بھی ہے (آپ کبھی تجربہ کر کے دیکھیے! وُضُو کیجیے! قرآنِ کریم لیجیے! سامنے کھول کر بیٹھ جائیے! اور بَس قرآنِ کریم کے الفاظ و حروف کی زیارت ہی کرتے رہیے، اس کے دِیدار سے آپ کو ایک خاص قسم کا سُکون، اِطْمینان، تازگی اور لذّت نصیب ہو گی۔ یہ قرآنِ کریم کا حُسْن ظاہِر ہے، اسی طرح قرآنِ کریم کے دِیدار سے، اس کی تِلاوت سے دِلوں کے زنگ اُترتے ہیں، دِلوں میں ہدایت پیدا ہوتی ہے، دِل کا ٹیڑھ پَن دُور ہوتا، باطِن کی اِصْلاح ہوتی ہے، یہ قرآنِ کریم کا حُسْنِ معنوی ہے۔ تو علمائے کرام فرماتے ہیں: جیسے قرآنِ کریم میں حُسْنِ ظاہِر بھی ہے، حُسْنِ معنوی بھی ہے،) ایسے ہی پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کے چہرۂ پُرنُور میں حُسْنِ ظاہِر بھی ہے( کہ اس بابرکت چہرے کو دیکھ کر سکون ملتا ہے، غم بھولتے ہیں، دِل کو تسکین ملتی ہے، )اور اس چہرۂ پاک میں حُسْنِ معنوی بھی ہے (کہ اسے دیکھ کر دِلوں کے زنگ اُترتے اور ہدایتوں کی معراج نصیب ہوتی ہے۔)([1])
پیارے آقا، نُور والے مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کا چہرہ مبارک بہت ہی پیارا اَور خوبصُورت تھا *آپ کی پیشانی مبارک کُشادہ، چمکدار اور روشن تھی۔([2]) روایت میں ہے: جب پیارے آقا صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کے مُوئے مبارَک چہرۂ پاک پر آجاتے، آپ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم جب پیشانی مبارَک سے بال ہٹاتے تو یُوں لگتا تھا جیسے سُورج طلوع ہو گیا ہے، جب دُور سے تشریف لا رہے ہوتے تو نُورانی پیشانی سے نُور کی کرنیں پُھوٹ رہی ہوتی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami