Share this link via
Personality Websites!
476901
9395
نے کہا: آپ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کا چہرۂ پُرنُور یوں مَعْلُوم ہوتا کہ جیسے چاند کا ٹکڑا ہو([1])*کسی نے کہا: چہرۂ پُر نُور سے زیادہ حسین کوئی چیز نہیں، یوں لگتا تھا گویا آپ کے رُخِ اَنْور میں سُورج چل رہا ہو ۔ ([2])مگر اس روایت میں صحابئ رسول نے چہرۂ پُرنُور کے حُسْن کو عجیب ہی رنگ میں بیان کیا ہے، فرماتے ہیں:
كَاَنَّ وَجْهَهٗ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ
گویا آپ کا چہرۂ پاک، قرآن شریف کا ورقہ تھا۔ ([3])
سُبْحٰنَ اللہ! ایک فارسی شاعر لکھتے ہیں:
آیَاتِ قُرْآں اَبْرُویَت، تَفْسِیْرِ قُرْآن گَیْسُوْیَت
اَے رُوْئے تَو قُرْآنِ مَا، اِیْماں تُوئِی اِیْمَاں تُوْئِی
وضاحت: آپ نے اگر دیکھا؛ قرآنِ کریم کی آیات مُخْتَصَر ہوتی ہیں مگر اِن کی تفسیر لمبی کئی کئی صفحوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ مولانا جامِی رحمۃُ اللہ علیہ فرما رہے ہیں: یارسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم ! آپ کے اَبْرُو مبارَک ایسے ہیں گویا قرآن کی آیات ہوں، اور زُلْف مقدَّس جو لمبی ہیں، وہ گویا قرآنی آیات کی تفسیر ہیں، اے مَحْبُوب صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم ! آپ کا چہرۂ پُرنُور میرے لیے ایسے ہے، گویا قرآنِ کریم ہو، آپ ہی اِیمان بلکہ ایمان کی جان ہیں۔
صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم نے چہرۂ مصطفےٰ کو قرآن کے ورق سے تَشْبِیْہ کیوں دِی؟
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami