Share this link via
Personality Websites!
476900
9395
علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے ظاہِری زندگی مبارَک کے آخری اَیّام یہیں پر بَسَر فرمائے، اسی حُجْرۂ پاک کے دروازے سے پَردہ اُٹھا کر آپ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم کو دِیدار کا شرف بخشا۔
اگر آپ کو شرف مِلا ہو تو دیکھا ہو گا کہ مسجدِ نبوی شریف میں جہاں پیارے آقا صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کے مُصَلّٰی بچھانے کی جگہ ہے، اُس جگہ قبلے کی جانِب رُخ کر کے کھڑے ہوں تو حُجْرۂ عائشہ دِل کی جانِب بنتا ہے، یعنی صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم قبلے کی جانِب رُخ کیے نماز میں کھڑے تھے، آپ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے جب پردہ مبارَک اُٹھایا اور صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم کو دِیدار کا شرف بخشا، اس وقت آپ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم اُن کے دِل والی سائیڈ پر تھے مگر قربان جائیے! صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم کا عشق بھی کمال اور بےمثال ہے، حالتِ نماز میں ہیں، رُخ قبلے کی جانِب ہے مگر جُونہی مَحْبُوب صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے پردہ اُٹھایا، فورًا ہی آنکھیں آپ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کی جانِب پِھر گئیں اور دِیدارِ مُصْطفےٰ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کی لذّت میں مَصْرُف ہو گئے۔
پیارے اسلامی بھائیو! اس روایت میں ایک اور بہت خُوبصُورت اور اِیْمان افروز بات ہے، پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کے حُسْنِ پاک بِالخصوص چہرۂ پُر نُور کا تعارُف کرواتے ہوئے صحابۂ کرام نے بہت سارے اَلفاظ استعمال کیے ہیں، مثلاً؛ *کسی نے کہا آپ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کا رُخِ اَنْوار چودہویں کے چاند کی طرح روشن تھا([1]) *کسی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami