Share this link via
Personality Websites!
476374
9372
نہ دیا بلکہ فرمایا: مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُجو کچھ آپ نہ جانتے تھے وہ سب کچھ آپ کو سکھایا۔([1])
پتا چلا؛ جو جو بات حُضُور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نہیں جانتے تھے، وہ وہ باتیں اللہ پاک نے اپنے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو سکھا دِیں۔
صحابئ رسول حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ فجر کی نماز کا وقت تھا، پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مَعْمُول (Routine) سے ہٹ کر کچھ دَیر سے تشریف لائے، نمازِ فجر پڑھائی، پِھر آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: میں رات اُٹھا، نوافِل ادا کیے ، دورانِ نماز مجھے نیند نے آ لیا تو میں نے حالتِ خواب میں اپنے اللہ پاک کو نہایت حسین صُورت میں دیکھا، میں نے دیکھا کہ اللہ پاک نے اپنا دَسْتِ قُدرت (جیسا اس کی شان کے لائق ہے) میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا یہاں تک کہ میں نے اُس کی ٹھنڈک اپنے سینے پر محسوس کی، پس رَبِّ کریم کا (اس کی شان کے لائق) دَسْتِ قُدرت میرے سینے پر رکھے جانے کی دیر تھی، میری کیفیت یہ ہو گئی کہ فَتَجَلّیٰ لِیْ کُلُّ شَیْءٍ وَ عَرَفْتُ پس مجھ پر ہر چیز روشن ہو گئی اور میں نے اسے پہچان لیا۔([2]) ایک روایت میں ہے: فَعَلِمْتُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فی الْاَرْضِ پس میں نے جان لیا جو کچھ زمین میں اور جو کچھ آسمان میں ہے۔([3])
پیارے آقا کا نِرالاعِلْم مبارک
حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہ عنہ صحابئ رسول ہیں، آپ فرماتے ہیں: ایک دِن پیارے آقا،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami