Share this link via
Personality Websites!
476373
9372
آلِہٖ وَ سَلَّماللہ پاک کی عطا سے جمیع مَا کَانَ وَمَا یَکُوْنُ (یعنی روزِ اوّل سے قیامت تک جو ہو چکا ہے اور جو ہونے والا ہے، اس سب)کا تفصیلی عِلْم رکھتے ہیں۔([1])
اَلحمدُ للہ! یہ عقیدہ قرآنِ کریم کی واضِح آیات سے ثابِت ہے۔ دِل کی تسلّی کے لیے صِرْف 2آیات عرض کرتا ہوں:
(1): پارہ 27، سُوْرَۂ رَحْمٰن، آیت 3 اور 4 میں اِرْشاد ہوتا ہے:
خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ(۳) عَلَّمَهُ الْبَیَانَ(۴)
تَرْجمۂ کنز الایمان: انسانیت کی جان مُحَمَّد کو پیدا کیا، مَاکَانَ وَمَا یَکُوْن کا بیان انہیں سکھایا۔
مشہور مفسر ومُحَدِّث ، امام بغوی رحمۃُ اللہ علیہ اس آیت کے تَحْت فرماتے ہیں: اِبْنِ کیْسان نے کہا کہ یہاں اَلْاِنْسَان سے انسانیت کی جان یعنی مَحْبُوب مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مراد ہیں اور اَلْبَیَانسے مَا کَانَ وَمَا یَکُوْن کا بیان مراد ہے کیونکہ نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اَوّلِین وآخرین اور قیامت کے دِن کی خبریں دیتے ہیں۔([2])
(2): پارہ5، سُوْرَۂ نِسَاء، آیت 113 میں ہے:
وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا(۱۱۳)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اور آپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو آپ نہ جانتے تھے اور آپ پر اللہ کا فضل بہت بڑا ہے۔
سُبْحٰنَ اللہ! اِس آیت نے تو عِلْمِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی وُسْعَت کو کھول کر بیان فرما دیا۔دیکھیے! اِس جگہ یہ نہ فرمایا کہ آپ کو اَحْکامِ شریعت کا عِلْم دیا یا فلاں بات کا عِلْم دیا فُلاں کا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami