Share this link via
Personality Websites!
476370
9372
مبارک میں اُٹھایا ہوا تھا۔
سُبْحٰنَ اللہ!
جن کو بارِ دو عالَم کی پروا نہیں ایسے بازُو کی قُّوّت پہ لاکھوں سلام
فرش تا عرش ہے جس کے زیرِ نگیں اُن کی قاہِر حکومت پہ لاکھوں سلام
طاقتِ مصطفےٰ مرحبا...!! مرحبا!
سُبْحٰنَ اللہ!اس بازُو مبارَک کے زَور اور طاقت کی تَو کیا ہی بات ہے، غَزْوَۂ خَنْدَق کا موقع تھا،صحابئ رسول، حضرت جابر رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم خندق کے دن کھدائی کر رہے تھے کہ ایک سخت پتھر سامنے آ گیا ، جس کو توڑنے کی ہم 3 دن سے کوشش کر رہے تھے، پھر بھی اس کو توڑ نہ پائے تھے، صحابہ کرام رَضِیَ اللہ عنہمبارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ایک پتھر خندق کھودنے میں آزمائش بنا ہوا ہے، یہ سُن کر آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اُٹھے، حالانکہ آپ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّمنے پیٹ پر پتھر باندھ رکھے تھے، ربّ کے مَحْبُوب صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے کُدال (زمین کھودنے کا ایک نوکدار ہتھیار) لیاپتھر پر مارا تو پتھر ریت کی طرح ریزہ ریزہ ہو گیا۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! یہ ہمارے آقا و مولیٰ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا زَورِ بازُو ہے، وہ چٹّان جسے صحابۂ کرام علیہم الرّضوان توڑ نہیں پا رہے تھے، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے ایک ہی ضَرْب میں اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔ پِھر ہم کیوں نہ کہیں؛
جن کو بارِ دو عالَم کی پروا نہیں ایسے بازُو کی قُّوّت پہ لاکھوں سلام
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami