Share this link via
Personality Websites!
476369
9372
اِس سے ملنے والے نکات سُنتے ہیں:
ایسے بازُو کی قُوَّت پہ لاکھوں سلام
سب سے پہلے حدیثِ پاک کے اِس پہلو پر غور کیجیے! یہ کتابیں جو پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے ہاتھ مبارَک میں تھیں، تَصَوُّر کیجیے کہ یہ کتنی بڑی اور کتنی وَزْنی ہوں گی؟
آپ کا کبھی ٹاؤن کمیٹی / بلدیہ میں جانا ہوا ہو گا۔ وہاں بڑی بڑی الماریوں میں بڑے بڑے رجسٹر رکھے بھی دیکھے ہوں گے۔ پچھلے 50 سے 70 سال میں خاص طَور پر اُس ایک سیکٹر یا ایک چھوٹے شہر میں جتنے بچوں کی وِلادَت ہوئی، ان رجسٹروں میں صِرْف ان کے نام اور ولدِیّت لکھی ہوتی ہے۔ دو باتیں ذِہن میں رکھیے! *یہ صِرْف ایک سیکٹر /یا ایک چھوٹے شہر کے بچوں کے نام ہیں *یہ صِرْف 50 سے 70 سالوں کا ریکارڈ ہے۔ اس کے باوُجُود بلدیہ میں درجنوں رجسٹر جمع ہوتے ہیں، بڑی بڑی الماریاں بھری ہوتی ہیں اور یہ رجسٹر بھی اتنے بھاری ہوتے ہیں کہ ایک عام آدمی 5سے 10 رجسٹر ایک ہاتھ سے اُٹھا نہیں سکے گا۔
مگر آپ کمال دیکھیے! یہ صِرْف 50 سال کا ریکارڈ نہیں تھا بلکہ ہزاروں سالوں کا رِیْکارڈ تھا، حضرت آدم علیہ السَّلام سے اب تک، اب سے قیامت تک جتنے لوگ آئے، موجود ہیں، آیندہ آئیں گے، ان میں بچے، بڑے، بُوڑھے، عورتیں، مرد جو جو جنّت میں جائے گا، جو جو جہنّم میں جائے گا، اُن سب کے نام، اُن کے والدین کے نام، اُن کے خاندانوں کے نام اُن کتابوں میں دَرْج تھے، پِھر یہ ریکارڈ کسی ایک شہر کا نہیں تھا، کسی ایک ضلع، صُوبے یا ملک کا نہیں بلکہ پُوری دُنیا کا تھا۔ آپ اندازہ لگائیے!اتنا بڑا ریکارڈ جسے لکھنےکے لیے ہزاروں نہیں لاکھوں صفحات درکار ہوں گے، پیارے آقا صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے اتنا بڑا ریکارڈ اپنے ہاتھ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami