Share this link via
Personality Websites!
476368
9372
فِيْهٖ اَسْمَاءُ اَهْلِ الْجَنَّةِ وَاَسْمَاءُ آبَائِهِِمْ وَقَبَائِلِهِمْ
ترجمہ: اس میں تمام اَہْلِ جنّت، ان کے آباء و اَجْداد اور قبیلوں کے نام دَرْج ہیں۔
ثمَّ اُجْمِلَ عَلىٰ آخِرِهِمْ فَلَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ اَبَدًا
ترجمہ: یعنی سب جنّتیوں کے ناموں کی تفصیل کے بعد آخر میں اُن کا ٹوٹل بھی دَرْج کر دیا گیا ہے، اب ان میں سے نہ کچھ کمی ہو گی، نہ زیادتی ہو گی۔
پِھر آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے دوسرے ہاتھ والی کتاب کے مُتَعَلِّق فرمایا:
هَذَا كِتَابٌ مِّنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ
ترجمہ: یہ کتاب بھی اللہ رَبُّ الْعَالَمِينَ کی جانِب سے عطا کی گئی ہے۔
فِيهِ اَسْمَاءُ اَهْلِ النَّارِ وَاَسْمَاءُ آبَائِهِِمْ وَقَبَائِلِهِمْ ثمَّ اُجْمِلَ عَلىٰ آخِرِهِمْ فَلَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ اَبَدًا
ترجمہ:اِس میں سب جہنّمیوں، ان کے آباء و اَجْداد اور قبیلوں کے نام درج ہیں، آخر میں ٹوٹل بھی لگا دیا گیا ہے۔ اب ان میں نہ کمی ہو گی، نہ زیادتی ہو گی۔
حضرت عبد اللہ بن عَمْرو رَضِیَ اللہ عنہفرماتے ہیں: ہم نے عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! جب جنّتیوں اور جہنّمیوں کے نام پہلے سے طَے ہیں تو پِھر عَمَل کی کیا حاجت ہے؟ فرمایا: سیدھے رہو اور قربِ اِلٰہی حاصِل کرو! بیشک جنّتی کا خاتمہ جنّتیوں والے کام پر ہوتا ہے اور جہنّمی کا خاتمہ جہنّمیوں والے کام پر ہوتا ہے۔ ([1])
پیارے اسلامی بھائیو! یہ حدیث شریف جو ہم نے سُنی، اب آئیے! ایک ایک کر کے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami