Share this link via
Personality Websites!
476392
9372
لاتے ہوئے عقیدۂ ختمِ نبوت کے حوالے سے چند ضروری باتیں سناتا ہوں۔
عقیدۂ ختمِ نبوت کے حوالے سے چند اہم باتیں
پیارے اسلامی بھائیو! عقیدۂ خَتْمِ نُبُوَّت ضروریاتِ دِین میں سے ہے۔([1]) اور اِس کے بارے میں عِلْم سیکھنا فرضِ عین ہے۔([2])
*عقیدۂ ختمِ نبوت کیا ہے؟ جب سے احمدِ مجتبیٰ، مُحَمَّدِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم دُنیا میں تشریف لائے، اُس وقت سے لے کر قیامت تک کوئی بھی شخص کسی بھی لحاظ سے کسی بھی زمانے میں، ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں میں، کائنات (Universe)کے کسی بھی خطّے میں کوئی نیا نبی نہیں آ سکتا۔([3])
* اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ- (پارہ: 22، سورۂ اَحْزَاب: 40)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: مُحَمَّد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے ہیں۔
* پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے فرمایا: اَنَا خَاتَمُ النَّبِیّٖن لَا نَبِیَّ بَعْدِی([4]) یعنی میں سب نبیوں میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا* ایک
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami