Share this link via
Personality Websites!
476367
9372
سے پہلے کچھ اچھّی اچھّی نیّتیں کر لیتے ہیں، نیّت کیجیے!*رضائے الٰہی کے لیے بیان سُنوں گا*بااَدَب بیٹھوں گا* خوب تَوَجُّہ سے بیان سُنوں گا*جو سُنوں گا، اُسے یاد رکھنے، خُود عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! ترمذی شریف جو حدیثِ پاک کی مشہور کتاب ہے،اس میں ایک بہت اِیْمان افروز، عشق افروز (یعنی عشقِ رسول بڑھانے والی) اور سبق آموز روایت ہے، آج کے بیان میں یہ روایت اور اس سے ملنے والے کچھ نِکات آپ کے سامنے پیش کرنے ہیں۔ آئیے! پہلے حدیثِ پاک سُن لیتے ہیں:
حضرت عبد اللہ بن عَمْرو رَضِیَ اللہ عنہ صحابئ رسول ہیں، فرماتے ہیں: ایک مرتبہ پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اپنے گھر مبارَک سے باہَر تشریف لائے، آپ کے ہاتھ مبارَک میں 2 کتابیں تھیں۔ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے ہم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
اَتَدْرُوْنَ مَا هَذَانِ الْكِتَابَانِ؟
ترجمہ:کیا تم جانتے ہو کہ یہ 2 کتابیں کیا ہیں...؟
ہم نے عرض کیا: نہیں یارسول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! ہم نہیں جانتے، آپ ارشاد فرما دیجیے! چنانچہ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے سیدھے ہاتھ میں جو کتاب تھی، اُس کے مُتَعَلِّق فرمایا:
هَذَا كِتَابٌ مِّنْ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ
ترجمہ: یہ کتاب اللہ رَبُّ الْعَالَمِينَ کی جانِب سے عطا کی گئی ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami